آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 82 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 82

161 160 اس کھوپڑی سے پڑھوائے۔میرے ساتھی نہایت حیران ہوئے کہ بات کیا کتابیں انگریزی کتب فروشوں کے ہاں ملتی ہیں اور اس فن کو ونٹری لوکوئی ہے؟ زمین یا کسی نلکی سے اس کھوپڑی کا تعلق نہیں تھا۔پھر کون ہے جو اس میں VENTRI LOQUY) کہتے ہیں اور یہ آواز کو فوکس کرنے کا فن ہے مگر باتیں کرتا ہے؟ آخر یکدم مجھے خیال آیا کہ یہ وہ علم ہے جسے ونٹری لوکوئزم بہت دلچسپ۔جب ہم نے تماشا والے کو کہا کہ ” قرآن کریم پڑھ کر سنوائے“ VENTRI LOQUISM) کہتے ہیں یعنی انسان آواز کی مشق کر کے تو اُس کھوپڑی نے سورہ کیس کی کچھ آیتیں پڑھیں، پھر شاید سنسکرت یا کوئی اور اس طرح بات کر سکتا ہے کہ بات خود اس کے منہ سے نکلتی نہیں معلوم ہوتی غیر زبان بولنے کو کہا تو فیل ہوگئی کیونکہ وہ اس بولنے والے کو خود نہیں آتی تھی۔(95) دُکانداری بلکہ جس مقام سے چاہے اُس کے بولنے کی آواز وہیں سے آتی معلوم ہوتی ہے۔مثلاً اگر بولنے والا مشاق چاہے تو اس طرح کلام کر سکتا ہے کہ اُس کا کلام کمرہ کی ایک کرسی یا کتاب یا لیمپ میں سے نکلتا ہوا سنائی دے نہ کہ خود ایک سرحدی ضلع میں ایک ڈاکٹر صاحب کہیں سے تبدیل ہو کر تشریف اس کے منہ سے۔ایک آدمی آپ کے سامنے بات کرتا ہے مگر آواز آپ کی لائے۔اُن کے ساتھ اُن کا ایک رشتہ دار بھی تھا۔وہ جہاں جاتے تھے اسے ہمراہ پشت کی طرف سے آتی معلوم ہوتی ہے۔جس طرح روشنی کی شعاعیں ریفلیکٹر لے جایا کرتے تھے اور ایک ڈرگ شاپ یعنی دوا فروشی کی دکان اُسے کھلوا کے ذریعہ جس جگہ اور جس طرف سے بھی چاہیں پھیر سکتے ہیں اسی طرح دیتے تھے لیکن پبلک کو پتہ نہ لگتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو اس دکان سے کوئی تعلق خاص طرف سے منہ بنا کر بولنے کی مشق کرنے سے کسی کمرہ میں سے کسی ہے۔سمجھوتہ یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے ہر نسخہ یا ہر متمول مریض کے نسخہ میں مقررہ جگہ سے بولنے والے کی آواز آنے لگتی ہے۔چنانچہ یہ کھیل بھی وہی تھا باقی سب معمولی اور مشہور دوائیاں مکچر کی لکھ کر آخر میں بجائے پانی کے اکوا اور تماشا والے نے آخر مان لیا کہ بات یہی تھی۔جب ہم نے اُسے کہا کہ سہانجنا (AQ SOHANJNA) بھی لکھ دیا کرتے تھے۔شفاخانہ کا کمپونڈر کوئی فارسی کا شعر پڑھو تو پڑھنے والا تو وہی تماشا گر تھا مگر آواز اس کھوپڑی نسخہ دیکھ کر کہہ دیتا کہ ”ہمارے ہاں یہ دوا نہیں ہے بازار سے نسخہ بنوا لیں، پھر میں سے آتی تھی کہ مریض جس جس کیمسٹ کے پاس جاتا تو وہ بھی نسخہ پڑھ کر یہی کہہ دیتا کہ یہ الا یا ایها الساقی ادر کاسا و ناولها دوا پڑھی نہیں جاتی “ یا ”سمجھ میں نہیں آتی‘ یا ہمارے ہاں موجود نہیں ہے آپ که عشق آسان نمود اول ولے افتاد مشکلها کہیں اور سے نسخہ بنوا لیں پھرتا پھر ا تا آخر کار جب نسخہ والا اُس خاص کیمسٹ ہر شخص اس قسم کی پریکٹس میں کامیاب نہیں ہو سکتا مگر کوشش اور مشق کے پاس پہنچتا جو ڈاکٹر صاحب کا آوردہ تھا تو وہ فوراً نسخہ بنا دیا کرتا تھا۔اس کے ساتھ بعض آدمی اس کے ماہر ہو جاتے ہیں اور اپنے ہمراہیوں کو خوب ڈرا طرح سے نہ صرف کیمسٹ کے گاہک زیادہ ہوتے جاتے تھے بلکہ ڈاکٹر صاحب لیتے ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چن تکیہ میں سے یا لوٹے میں سے دیوار کا کمیشن یا منافع بھی ترقی کرتا جاتا تھا اور بات صرف اتنی تھی کہ سہانجنا ایک میں سے باتیں کر رہا ہے، مگر آواز بہت اونچی اور صاف نہیں ہوتی۔اس علم کی مشہور درخت ہے جس کی پھلیوں کا اچار پنجاب میں عام طور پر استعمال ہوتا