آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 45
87 86 (42) مختلف صحتیں ہاسپٹل میں ایک شخص آیا جس کے دائیں پوٹے پر ذرا سی خراش لگ گئی تھی پھر ورم ہو گیا۔پھر سر درد اور بخار اور بعد میں سرسام ہو کر دماغ کے پردوں میں ہو ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لڑکا پندرہ سولہ سال کا اپنے باپ کے ہمراہ پیپ پڑ گئی۔ابتداء میں جب اسے ہوش تھا تو اُس نے ہم سے پوچھا کہ یہ کیا شفا خانہ میں کسی گاؤں سے پیدل چلتا ہوا آیا۔اُس کے پیٹ پر ایک نہایت بیماری ہے؟ کسی طالب علم نے کہہ دیا کہ انفلا میشن ہے“۔اس کے بعد ہوش غلیظ اور گندہ کپڑا بندھا تھا۔میں نے پوچھا: - " کیا ہے۔کہنے لگا ”سور نے یا بے ہوشی اس کے منہ سے یہی لفظ نکلتا رہا۔اور آخر مرتے وقت بھی اُس اپنی لات مار کر میرا پیٹ تین دن ہوئے پھاڑ دیا ہے۔میں جنگل میں بکریاں کے منہ پہ یہ تھا ”انفلا فلا فلا انفلا فلا میشن۔یہ ہے صحت شہر والوں کی۔(43) لینے کے دینے چرا رہا تھا جب یہ حادثہ ہوا۔میں نے پٹی گھلوائی تو اندر بھیٹر کی مینگنیاں اور نمدہ کے ٹکڑے بطور پلٹس زخم پر بندھے ہوئے تھے۔اور بدبو کے مارے پاس کھڑا ہونا مشکل میں ایک سرحدی ضلع میں متعین تھا۔وہاں ایک تمن یعنی بلوچی جاگیر تھا۔بڑی مشکل سے زخم صاف کیا گیا۔تو معلوم ہوا کہ پیٹ چار انچ پھٹ کر میں مسجد کا ملا اک صبح کو رفع حاجت کے لئے جنگل میں گیا۔اس علاقہ میں اُس میں سے انتڑیاں اور پھر باہر نکلا ہوا ہے۔میں نے لڑکے کو بے ہوش کر جھاؤ جس سے ٹوکریاں بنائی جاتی ہیں بکثرت ہوتا ہے۔وہاں بیٹھے بیٹھے اُس کے جس قدر پھیر باہر تھا کاٹ دیا۔اور انتڑیاں نمک کے پانی سے اچھی طرح نے دیکھا کہ ایک رئیس کسی شخص کے ساتھ باتیں کرتا ہوا پاس سے گزر رہا دھو کر واپس اندر داخل کر دیں۔پھر زخم کوسی دیا۔ایک ہفتہ بعد ٹانکے کاٹ ہے۔جھاڑیاں بہت گھنی تھیں جس میں سے ملا نے تو ان دونوں کو دیکھ لیا مگر دیے گئے اور لڑکا بغیر کسی تکلیف یا بخار کے اچھا ہو گیا۔برابر سوکھی روٹیاں اور ملا کو کسی نے نہ دیکھا کہ اتنے میں اُس سردار نے اپنی تلوار نکال کر دوسرے گڑ کھاتا رہا۔اگر کوئی شہری آدمی ہوتا تو پہلے بلے میں ہی اُڑ جاتا یہ ہے صحت ساتھی کی گردن پر ماری اور اُسے قتل کر دیا۔پھر زمین کی مٹی سرکا کر وہیں اُسے دبا بھی دیا۔یہ سین دیکھ کر ملا خاموشی کے ساتھ وہاں سے چلا آیا۔مگر ڈر کے اسی طرح ایک چو ہڑا جو نقب زنی کر رہا تھا عین موقعہ پر پکڑا گیا۔مارے کسی سے کہہ نہ سکتا تھا۔آخر مجبور ہو گیا اور ایک خط غالبا کمشنر صاحب کو بصیغہ راز لکھا کہ ”میں نے اپنی آنکھوں سے یہ واقعہ دیکھا ہے۔اور فلاں جگہ جنگلی لوگوں کی۔گاؤں والوں نے اُسے اتنا پیٹا کہ کوئی ہڈی جسم کی سلامت نہ رہی دونوں ہاتھوں، باہوں اور بازوؤں کی ہڈیاں شکستہ ہوگئیں اسی طرح دونوں ٹانگیں بھی آپ خود نعش نکلوا کر دیکھ سکتے ہیں“۔چور چور تھیں۔کئی پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں۔نیچے کا جبڑا شکستہ تھا۔اور سر پر بھی دو یا تین فریکچر تھے۔مگر دوماہ بعد یہی شخص شفا یا کر گھوڑے کی طرح دوڑتا ہوا کمشنر نے ضابطہ کے طور پر وہ خط ڈپٹی کمشنر کو اور اُس نے پولیس کو دیا۔پولیس نے جب مقام معلوم کو کھودا تو مقتول کی نعش گردن کٹی ہوئی اپنے گھر چلا گیا۔یہ ہے دیہاتی لوگوں کی صحت۔برخلاف اس کے لاہور میو نکل آئی۔اس بات کی اطلاع قاتل کو بھی پہنچ گئی۔اُس نے اُسی وقت اس