آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 23
43 42 وہ بڑا چالاک آدمی معلوم ہوتا تھا۔کہنے لگا ”جو جی آئے پوچھئے میں اس وقت زندہ موجود ہیں۔میں نے کہا: بھائی صاحب اب میری جرح بھی سُن لیجئے۔ان تینوں حاضر ہوں۔میں نے کہا کہ لوگ آپ سے آئندہ کی خبریں ہی پوچھتے ہیں مگر ہمیں خبر نہیں کہ وہ سچ ہوں گی یا جھوٹ میرے نزدیک آپ کے جواب سب سوالوں کے جواب کو اس مجلس کا ہر فرد ذاتی طور پر جانتا ہے۔اس لئے غلط غلط ہوتے ہیں اور آپ کے نزدیک سب صحیح۔اس لئے یہ مناسب ہوگا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔بعض گزشتہ باتوں کے متعلق صرف تین سوال آپ سے کروں اگر جواب صحیح ہوا (1) پہلے سوال کا صحیح جواب یہ ہے کہ ” میں وکیل نہیں ڈاکٹر ہوں“۔تو ہم گمان کر سکتے ہیں کہ آئندہ کے متعلق بھی آپ کے جواب صحیح ہوں گے۔کیوں صاحبان ! ٹھیک ہے یا غلط؟ سب نے کہا ٹھیک ہے۔" اور میں ایسے موٹے سوال کروں گا جن کے جواب یہ چوہیں دوست جو اس کمرہ (2) دوسرے کا یہ کہ میرے والد صاحب اور والدہ صاحبہ الحمد للہ دونوں میں موجود ہیں سب جانتے ہیں۔پس آپ اطمینان رکھیں کہ میں جھوٹ موٹ آپ کے جواب کا انکار اتنے گواہوں کے رُوبرو نہیں کر سکوں گا“۔وہ منجم بولا۔ہاں یہ اچھا طریقہ امتحان کا ہے۔آپ اپنے سوال فرمائیے! میں نے کہا کہ: (1) میرا پہلا سوال یہ ہے کہ میرا پیشہ کیا ہے؟ (2) دوسرا یہ کہ میرے والدین زندہ ہیں یا فوت ہو چکے ہیں؟ (3) تیرے یہ کہ میری کتنی اولاد اس وقت زندہ موجود ہے؟ زندہ ہیں۔اور حضرت والد صاحب تو یہ سامنے تشریف ہی رکھتے ہیں۔اس کی بھی سب نے تصدیق کی۔" اب غیب داں صاحب کا یہ حال ہوا کہ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں۔چپکے سے اُٹھ کر سلام کر کے چل دیئے۔نواب صاحب کہنے لگے۔یہ خبیث کچھ دل لگتی باتیں سنا کر کل مجھ سے کچھ رویے لوگ کر لے گیا تھا۔اگر آپ آج یہاں نہ ہوتے تو شاید کوئی بڑی رقم مار لیتا۔کیونکہ مجھے اس پر بڑا حُسنِ ظن ہو اس پر اُس شخص نے میری ہتھیلیاں دیکھیں بعض باتوں کے جواب گیا تھا۔مگر اس وقت ایک سوال کا جواب بھی نہ دے سکا اور برا جھوٹ کا پتلا پوچھے۔سُن اور تاریخ پیدائش دریافت کی۔اور خدا جانے کیا کیا دیکھا اور پوچھا نکلا کم بخت! بے ایمان ! پھر اپنا حساب اور اندازہ لگا کر ایک فاتحانہ انداز میں کہنے لگا۔” لیجئے سنیئے : (1) پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ آپ وکیل ہیں: (19) جھوٹا شیخی باز کالج کی تعلیم کے زمانہ میں ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں ریل میں سفر (2) دوسرے کا یہ کہ آپ کے والدین فوت ہوچکے ہیں۔(اس پر سب حاضرین نے قہقہہ لگایا۔میرے والد بزرگوار بھی اسی مجلس میں موجود کر رہا تھا۔گاڑی میں ایک صاحب سفید پوش پیر مرد کوئی بچپن یا ساٹھ سال عمر تھے۔فرمانے لگے: ” او خبیث ! میں اور اس کی والدہ ہم دونوں زندہ کے، معقول صورت آکر بیٹھ گئے اور آتے ہی کہنے لگے۔”صاحبان میں فلاں محکمہ کا انسپکٹر پنشنرز ہوں۔بڑی دُنیا دیکھی۔بڑا تجربہ حاصل کیا۔بُرا بھلا سارا ہیں۔) (3) تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ آپ کے دولڑ کے اور تین لڑکیاں زمانہ دیکھا سرد گرم چشیدہ ہو کر پنشن لی۔اب یادِ خدا کرتا ہوں اور دن رات