آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 22 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 22

41 40 کھولیں۔آخر میں گھر کے برتن بیچ بیچ کر تماشے دیکھے۔تم اگر اس میں پڑ گئے تو شیخیاں!“۔تیسرا بولا ”ا جی کچھ مسافر جو اُترے ہیں تو کوئی ننگے پیروں والا پہن تباہ ہو جاؤ گئے۔مجھے پر اُس دن سے ایسی دہشت تھیئیٹر کی بیٹھی کہ آج تک اس کر چلا گیا ہے۔غرض جتنے منہ تھے اتنی ہی باتیں۔ہوتے ہوتے جب مذاق کا شوق نہیں ہوا۔ہاں یوں کبھی کبھار بے شک دیکھا ہے: بہت بڑھ گیا تو وہ شخص سیدھا کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا۔”بھائیو! پہلے میری عقلمندی (17) واقعی وہ ہوشیار آدمی تھا دیکھ لو، پھر جتنا جی چاہے مذاق اُڑا لینا۔یہ کہہ کر اُس نے اوپر کے تختہ سے اپنا ٹرنک آگے کو کھینچ کر اُسے کھولا اور ایک جوڑا نئی جوتی کا فرش پر رکھ کر اور کالج کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ ہم دہلی جارہے تھے۔ایک ہمیں دکھا کر فوراً پہن لیا۔اور کہنے لگا کہ حضرات ہم ہار ماننے والے آدمی صاحب! امرتسر اسٹیشن پر ہمارے انٹر کے درجہ میں آبیٹھے۔جس میں اور بھی کئی نہیں ہیں کوئی چور خواہ کتنا ہی زبردست ہو ہم جیسے پولیس والوں کو نیچا نہیں دکھا لوگ سفر کر رہے تھے بیٹھتے ہی تھوڑی دیر میں وہ سب پر چھا گئے اور اپنی تقریر سکتا۔یہ کہہ کر وہ گاڑی سے اُتر کر پانی پینے چلا گیا اور کہتا گیا کہ دیکھ لیا میں بار بار کہتے تھے کہ سفر میں بڑی ہوشیاری اور سمجھ درکار ہے۔میں نے اپنی ننگے پیر تو نہیں رہے“۔ساری عمر پولیس کی ملازمت میں چوکنے رہ کر کائی ہے اور کبھی چور ہے اور کبھی چور یا بدمعاشوں سے چکر نہیں کھایا۔وجہ یہ ہے کہ آنکھیں اور کان کھول کر رکھتا ہوں۔اور ہوشیار رہتا ہوں۔اور ہر مشتبہ مسافر پر نظر رکھتا ہوں۔(18) نجومی کی ذلت 1917ء کا ذکر ہے کہ میں اپنی دوسری شادی کی تقریب پر دہلی کے غرض اسی طرح کی لچھے دار تقریریں کرتے جالندھر چھاؤنی کا اسٹیشن کارونیشن ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔وہاں میرے کئی بزرگ اور دوست بھی موجود آ گیا۔امرتسر سے جالندھر تک تمام راستہ ان کا خودستائی میں گزرا طرح طرح تھے۔رات کو معلوم ہوا کہ ہمارے ایک عزیز کے پاس جو نواب کہلاتے تھے دن کی ترکیبیں عقل و فکر کی سنتے سنتے آخر لوگ بھی تنگ آگئے جالندھر چھاؤنی پر کو ایک نجومی اسی ہوٹل میں آیا اور اُن سے ایسی باتیں کر گیا کہ نواب میاں اُن گاڑی کھڑی ہوئی تو کہنے لگے کہ میں ذرا نیچے اتر کر پانی پی آؤں سب کی غیب دانی کے نہایت درجہ قائل ہو گئے۔وہ کل پھر آنے کا وعدہ کر گیا ہے۔رفیقوں نے کہا کہ ضرور دو چار مسافروں کے اترنے کے بعد انہوں نے بھی میں نے ان نواب صاحب کو کہلا بھیجا کہ کل جب وہ آدمی آئے تو مجھے بھی بلا اپنی جگہ سے پیر اُتارے تو دیکھا کہ جوتا غائب! ”بھئی دیکھنا میرا جوتا ابھی لیجئے گا۔خیر دوسرے دن گیارہ بجے کے قریب وہ آیا اور ہم سب لوگ جو تھوڑی دیر ہوئی تو اُتارا تھا۔بھئی ذرا اپنے اپنے بنچوں کے نیچے تو دیکھنا“۔چوبیس کے قریب تھے ایک کمرے میں جمع ہو گئے۔نواب صاحب نے میری غرض ایک غل بچ گیا مگر جوتا نہ ملا سب لوگ بے اختیار ہنسنے لگے۔کسی نے کہا طرف اشارہ کر کے اُس نجومی سے کہا کہ یہ صاحب آپ کی غیب دانی کے کہ جیسے آپ نامی سراغرساں ہیں ویسا ہی وہ نامی چور بھی ہو گا جو آپ کا جوتا قائل نہیں ہیں۔آپ ان کو اپنا کمال منوا دیں گے تو پھر میں بھی آپ سے کچھ اُتار لے گیا۔کسی نے کہا ”یہ آپ کی خودستائی کی سزا ہے اور ماریے ضروری سوالات کروں گا“۔