آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 99 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 99

194 195 " عمل آتا ہے جس سے یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ ہمارا فلاں مقصد پورا ہو جائے گا یا نرس تھی اور دوسری جو اٹھارہ بیس سال کی تھی کسی پہاڑ پر مشن اسکول میں پڑھتی نہیں؟ میں نے کہا اچھا دکھاؤ“ اُس نے ایک کوڑی نکالی اُس کے اندر کوئی تھی۔ایک دفعہ وہ طالب علم لڑکی پہاڑ سے بیمار پڑ کر اپنے والدین کے پاس ایک انچ لمبا تنکا دے کر اُس تنکے کو زمین میں گاڑ دیا۔اس طرح کہ کوڑی کو آئی۔چند روز میں اُس کی حالت اور خراب ہو گئی تو اُس کی بہن نرس نے مجھے لے کر وہ تنکا زمین پر کھڑا تھا۔پھر کہنے لگا کہ ذرا سا پانی لاؤ۔اور اپنے دل میں کہا کہ مہربانی کر کے میری بہن کو دیکھ لیں، وہ بہت بیمار ہے، میں نے کہا کوئی بات سوچ لو۔ہم نے سوچ لی کہ فلاں کام ہو گا یا نہیں۔اِس پر اُس نے کیا ہے؟ کہنے لگی ”ٹائیفائیڈ ہے مگر ڈیڑھ مہینہ سے بخار نہیں اترا بلکہ زیادہ کچھ منتر وغیرہ پڑھ کر کہا کہ ”اب میں اس کوڑی پر پانی چھڑکتا ہوں اگر یہ ہی ہوتا جاتا ہے اور اب تو بہکنے بھی لگی ہے۔حالت نازک ہے خیر میں اُن دائیں طرف پھر گئی تو مطلب پورا ہو جائے گا، اگر بائیں طرف اس نے چکر کے ہاں گیا۔واقعی بہت پتلا حال تھا کروٹ دے کر پھیپھڑے دیکھے تو اُن میں کھایا تو نہیں پورا ہو گا پانی کا چھڑکنا تھا کہ آہستہ آہستہ وہ کوڑی دائیں کسی بیماری کا اثر نہ تھا۔اس کے بعد میں نے اُس کے پیٹ پر سے فراک طرف کو چکر کھانے لگی۔ہم سب حیران تھے۔پھر اور لوگوں نے بھی اپنے اونچا کر کے ٹٹولنا چاہا تو باوجود اُس کے کہ وہ نیم بیہوش تھی اُس نے مقابلہ کیا مطلب پوچھے۔ہر دفعہ وہ نیا تنکا لگاتا تھا اور زمین میں اُسے گاڑ کر پانی چھڑکتا اور فراک کو اس طرح پکڑ لیا کہ پیٹ ننگا نہ ہو سکے۔میں نے اُس کی بہن سے تھا۔کبھی وہ کوڑی دائیں طرف چکر لگاتی تھی اور کبھی بائیں طرف۔جب وہ کہا کہ اس کا مضائقہ نہیں اور صحیح تشخیص کے لئے پیٹ کا معائنہ اور اُس کا جلسہ ختم ہوا تو کھوج لگاتے لگاتے آخر ساری حکمت کا پتہ لگ ہی گیا۔وہ شعبدہ آنکھوں سے دیکھنا ضروری ہے۔میں نے دیکھا کہ میرے اس کہنے پر نرس کا یہ تھا کہ خشک گھاس کے سخت سے تنکے یا جھاڑو کے مناسب تنکے کو وہ شخص اپنی رنگ بھی فق ہو گیا۔آخر میرے زور دینے پر اُس نے مریضہ کے ہاتھ پکڑ لئے چٹکی سے کئی بکل دے دیتا تھا، پھر اُس میں کوڑی پھنسا کر زمین میں گاڑ کر جب اور کہا کوئی ڈر نہیں ڈاکٹر صاحب کو دیکھنے دو۔میں نے نہایت سادگی سے فراک پانی چھڑکتا تھا تو تھکے کو پانی لگتے ہی اس کی نمی سے وہ بل گھلنا شروع ہو جاتا اونچا کیا۔اُس وقت مجھے پتہ لگا کہ کیوں مریضہ اور اُس کی بہن اور ماں باپ تھا اور کوڑی چکر کھانے لگتی تھی اس طرح وہ لوگوں کو ٹھگا کرتا تھا۔لڑکیاں لڑکے اس معائنہ سے کتراتے تھے۔کپڑا اُٹھاتے ہی یہ نظر آیا کہ سارا پیٹ اُن تک اس کھیل کو خود آزما کر دیکھ سکتے ہیں مگر نا واقف آدمی ہو، تماشا والا مقدس لکیروں سے بھرا پڑا ہے جو حمل میں عورتوں کے شکم پر پیدا ہو جاتی ہیں۔صورت ہو اور منتر یا آیتیں پڑھ کر پانی چھڑ کا جائے تو اکثر آدمی دھوکا کھا جاتے حالانکہ بیچاری ناکتخدا تھی۔یہ دیکھتے ہی میں نے جھٹ اُس کا فراک نیچے کر دیا اور سارا معاملہ سمجھ گیا۔پہاڑ پر بیچاری کا وضع حمل ہوا اور پورا بچہ تھا۔وہ بن کر پر سوت یعنی زچگی کا انکار ہو گیا جسے وہاں ٹائیفائیڈ کہتے رہے۔آخر لڑکی گھر آ ہیں۔(112) آزادلڑ کیاں ایک پادری صاحب تھے۔اُن کی ایک بیوہ لڑکی تو میرے شفا خانہ میں گئی یہاں بھی یہی مشہور رہا مگر بخار زہریلا تھا دو چار روز میں بیچاری فوت ہو گئی۔