آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 88 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 88

173 172 گئے۔(102) سرگس میں سرگس ہو میں کھانا لے آیا۔کھانا یہی پوری کچوری اچار وغیرہ تھا مگر ہر چیز پتھر کے نے انعام بھی رکھا کہ سو روپیہ دوں گا“۔دو سو روپیہ دوں گا مگر بند بھلا کس برتنوں میں تھی، یہاں تک کہ پینے کا پانی بھی ایک پتھر کے گلاس میں تھا۔میرا کے ہاتھ آتا تھا۔یہ کام تو صرف بندوق ہی کر سکتی تھی لیکن تیرتھ میں بندوق کا دل اُس کی اس مہمان نوازی سے بہت خوش ہوا۔جو خاص چیز میں نے وہاں کیا کام۔غرض میں تو اُسے اسی طرح پیٹ پکڑے روتا پیٹتا چھوڑ کر چلا آیا دیکھی وہ یہ تھی کہ اشنان کرنے والے لوگ دُور دُور تک دریا کے کنارے بیٹھ کیونکہ واپسی کا وقت ہو گیا تھا۔خدا کو معلوم ہے کہ اُس صدری یا بندر کا پھر کیا کر نہاتے تھے۔صرف ہر کی پوڑی کے ساتھ غسل مخصوص نہ تھا مگر اکثر ان حشر ہوا اور سیٹھ صاحب زندہ بچے یا دس ہزار روپیہ کے غم میں سرگباش میں سے نہاتے وقت دریا میں کچھ نہ کچھ نقدی ڈال دیتے تھے، چونکہ دریا کا یہ حصہ منبع کے نزدیک ہے اس لئے پانی کے نیچے مٹی یا ریت نہ تھی بلکہ دریا کی ساری تہہ میں گول گول پتھر ہی پتھر تھے۔ایسے پتھروں میں پیسہ، اکنی یا دوئی کا دستیاب ہونا نہایت مشکل ہے لیکن وہاں سینکڑوں کی تعداد میں ایک قوم تھی لاہور کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ وہاں ایک مشہور سرکس آیا۔جس روز میں جو پانی کے اندر ہاتھ ڈال کر اور اسے ہلا کر کسی نہ کسی طرح جو بھی سکہ ان دیکھنے گیا اُس دن ساری سیٹیں بھری ہوئی تھیں۔تیل رکھنے کو کہیں جگہ نہ تھی۔پتھروں کے اندر ہوتا تھا نکال لیتی تھی۔میں نے دیکھا کہ ہر دس پانچ منٹ سامنے تیسرے درجہ کی گیلری میں لوگ اس قدر پھنسے بیٹھے تھے کہ اُن کے لئے کے بعد وہ کبھی دونی، کبھی پیسہ، کبھی چوٹی اپنی اس حکمت عملی سے نکال ہی لیتے سانس لینا بھی مشکل تھا اور وہاں سے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد گھنگروؤں کی تھے۔ایک تماشا یا مصیبت وہاں یہ بھی دیکھی کہ ایک مارواڑی دریا کے چھن چھن کی آواز بھی آ رہی تھی ، معلوم ہوا کہ ضلع شاہ پور کے بعض شوقین کنارے اپنے کپڑے اُتار کر نہانے لگا۔صدری اُس نے سامنے ایک درخت شکاری اپنے شکاری بازوں کو ہاتھوں پر لئے بیٹھے ہیں اور یہ آواز اُن گھنگروؤں سے ٹانگ دی اور دھوتی کس کر پانی میں گھس گیا۔اتنے میں ایک بندر آیا اور کی ہے جو بازوں کے سروں میں پڑے ہوئے ہیں۔اُس کی صدری درخت پر سے لے کر چلتا ہوا۔سیٹھ صاحب کا رنگ یہ دیکھ کر خیر تماشا شروع ہوا اور جب آدھ گھنٹہ کے قریب ہو چکا تو تیسرے فق ہو گیا۔چیخیں مارتے پانی میں سے بھاگتے ہوئے نکلے اور بندر کے پیچھے درجہ کی گیلری میں جہاں بازوں والے شکاری بیٹھے تھے یک دم ایک شور اُٹھا، دوڑے مگر وہ کہاں ہاتھ آتا تھا۔ایک مکان سے دوسرے مکان پر اور ایک پھر گالم گلوچ اور آخر میں مار کٹائی اور لکڑیاں چلنے کی آوازیں آنی شروع ہو چھجے سے دوسرے چھجے پر چھلانگیں مارتا چلا گیا اور پیچھے پیچھے سیٹھ صاحب کہتے گئیں۔لوگ اتنے کھیچ سچ اور پھنسے ہوئے بیٹھے تھے کہ نہ سامنے اُتر سکتے تھے نہ جاتے تھے کہ ارے کوئی پکڑنا اِس صدری میں میرے دس ہزار کے نوٹ کسی طرف کو جا سکتے تھے، نہ گیلری کے نیچے جو خالی جگہ تھی اُس میں کود کر باہر ہیں۔لوگ بہت کچھ بھاگے دوڑے مگر بندر کا پتہ بھی نہ لگا۔یہ دیکھ کر سیٹھ جی بھاگ سکتے تھے۔گالیوں کے ساتھ ساتھ لکڑیاں پٹنے کی آواز بھی بلند ہوتی گئی۔کی ایسی حالت ہوگئی کہ بس دیکھنے سے ہی سے تعلق رکھتی تھی۔کئی دفعہ اُنہوں کوئی کہتا تھا کہ ” میرا سر پھٹ گیا ہے کوئی اپنے چہرہ پر سے خون پونچھتا تھا "