آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 78
152 153 دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔چنانچہ ایک شخص کے گلے میں جب رسہ ڈالنے بھی ایک ایسی نظر سے اُسے دیکھا جو بددعاؤں سے بھری تھی۔خیر عدالت ختم ہو لگے تو اس نے پکارا کر کہا کہ ” بھائیو میں نے یہ خون کیا تھا۔اسی طرح ایک گئی اور خدائی فیصلہ کا انتظار ہونے لگا۔جھوٹا مدعا علیہ قسم کے ایک دو گھنٹہ کے اور شخص نے پھانسی سے پہلے اعلان کیا تھا کہ ”میں نے یہ قتل نہیں کیا تھا میں بعد بیٹے سمیت اپنے گاؤں کی پگڈنڈی پر جا رہا تھا کہ یک دم بادل گھر کر آنے مظلوم مارا جاتا ہوں۔عورتیں بھی پھانسی پاتی ہیں مگر بہت کم۔اور یہ غلط مشہور شروع ہو گئے۔پھر بارش آگئی اور آخر میں بجلی کا کڑا کا۔مگر ایسا کہ لوگوں نے ہے کہ عورت کو قانونا پھانسی نہیں مل سکتی۔ہاں نابالغ لڑکوں کو نہیں ملتی۔وہ برسوں سے ویسا ہولناک کڑا کا نہ سنا تھا۔دوسرے دن لوگوں نے بجلی سے جھلسی بورسٹل جیل میں اصلاح کے لے بھیجے جاتے ہیں۔یہ بات بھی غلط ہے کہ جب ہوئی دو لاشیں راستہ پر پڑی پائیں اور اُن میں سے ایک کے ہاتھ میں وہی پھانسی کا مقررہ وقت مل جائے تو پھر نہیں دی جاتی۔مرنے کے بعد عموماً وارث گڑوی تھی جو کل عدالت کی میز پر رکھی ہوئی دیکھی گئی تھی۔اپنے مُردہ کی نعش لے جاتے ہیں۔جس روز کسی کو پھانسی ملے اُس روز تمام دن جیل پر ایک سناٹا اور خاموشی چھائی رہتی ہے۔(88) خدائی فیصلہ شملہ کے علاقہ میں بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں۔حتی کہ اتنی چھوٹی بھی کہ وہاں کی آبادی پانچ سات مردوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ایک چار پائی کے سرہانے راجہ صاحب بیٹھے ہیں اور پائینتی وزیر صاحب۔جو ریاست ایسے خدائی فیصلے ہمیشہ نہیں ہوا کرتے مگر کبھی کبھی صرف بطور نمونہ اہلِ دنیا کو اس لئے دکھائے جاتے ہیں کہ وہ ایک مالک یوم الدین ہستی اور جزا و سزا کی مختار کل عدالت پر ایمان رکھیں ورنہ دراصل یہ دنیا دارالجزا نہیں ہے۔(89) ضدی کئی لوگ اپنی ہٹ اور ضد کی وجہ سے بھی مرجاتے ہیں۔میرے پاس کے فنانس ،ممبر، کمانڈر انچیف، ریونیو منسٹر، چیف جسٹس، غرض سب کچھ وہی سونی پت میں ایک مریض آیا جو نمونیہ سے بیمار تھا۔خیر جب تک تو اُس کی ہوتے ہیں۔چار پائی کے نیچے جو تین چار آدمی بیٹھے ہوتے ہیں وہ ریاست کی حالت نازک رہی وہ بستر سے اُٹھ ہی نہیں سکا۔مگر بخار اترتے ہی بجائے پاٹ ساری رعایا ہوتے ہیں اور بس۔مگر میں جس ریاست کا ذکر نے لگا ہوں وہ کے جو اسی مطلب کے لئے اُس کے پلنگ کے پاس رہتا تھا وہ شفاخانہ کے خاصی بڑی تھی۔وہاں کی عدالت میں ایک نہایت اہم مقدمہ ایک پیتل کی پاخانوں میں جو فاصلہ پر تھے پیشاب پاخانہ کے لئے اپنے پیروں چل کر جانے گڑوی کا پیش ہوا۔مدعی نے کہا کہ گڑوی میری ہے۔ملزم نے کہا میری۔بڑھا لگا۔ملازمین نے بہتیرا روکا مگر باز نہ آیا۔آخر میرے پاس رپورٹ ہوئی۔میں مدعی بولا کہ اگر مد عاعلیہ اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ کر خدا کی قسم کھا جائے تو میں نے اُسے تنبیہ کی کہ کسی دن تو یک دم گر کر اور حرکت قلب بند ہو کر مر جائے اپنا دعویٰ چھوڑ دیتا ہوں۔عدالت نے یہ طریق فیصلہ منظور کر لیا۔مدعا علیہ گا۔یہیں فراغت کر لیا کر۔مہتر تو ہر وقت موجود رہتا ہی ہے ورنہ تیرے لئے صاف قسم کھا گیا اور گڑوی اُٹھا کر مع اپنے بیٹے کے چلا گیا۔غریب مدعی نے اچھا نہ ہو گا۔تجھے ابھی آٹھ دس دِن لیٹے رہنا ضروری ہے کہنے لگا ”چاہے