آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 65 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 65

127 126 جب تک پٹی لگتی رہی ہچکی بالکل نہ آئی۔لیکن جونہی وہ اصلی جگہ اپنے پلنگ پر پہنچا چھوڑ دیا۔ماسٹر کی بھی تلاشی ہوئی مگر کچھ پتہ نہ لگا۔آخر ایک سمجھدار تھانیدار نے ظالم پھر شروع ہوگئی۔دوسرے دن کرنل پیری کو جن کا وہ مریض تھا یہ رپورٹ کی گئی۔اُن سے کہا گیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو مریض کی جگہ اور پلنگ اندازہ لگایا کہ یہ ماسٹر بڑا چالاک سا آدمی ہے۔اور یہی ان لوگوں کے ہاں آیا جایا کرتا تھا اس سے کچھ پتہ چلے گا۔چنانچہ تفتیش کے بہانے اُسے حوالات میں تبدیل کر دیے جائیں۔صاحب نے کہا ضرور یہ بھی تجربہ کر کے دیکھ لو۔اس دے دیا۔کیونکہ پولیس والوں کو ان معاملات میں غیر محدود اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔اس کے بعد ماسٹر کے گھر والوں کو کہلوا دیا کہ ماسٹر تو حوالات میں ہے تم اس کا کھانا صبح شام گھر سے بھیج دیا کرو۔بات پر عمل کرنا تھا کہ پھر اس کے بعد ایک بچکی بھی اسے نہیں آئی۔نہیں تو یہ خیال پیدا ہو چلا تھا کہ یہ بیمار اب صرف چند دنوں کا ہی مہمان ہے۔ماحول کی تبدیلی ہی غالباً اصل وجہ تھی جس کا بیچکی پر اثر پڑا۔(69) سُراغرساں مجرم دو تین دن کے بعد تھانہ دار نے ماسٹر کے کھانے کے اندر روٹیوں کے درمیان ایک رقعہ لکھ کر رکھ دیا کہ ” ہوشیار رہنا اور کوئی بات قطعاً منہ سے نہ نکالنا۔ماسٹر نے اس رقعہ کا کوئی جواب نہ دیا۔دوسرے دن اسی طرح کا اور گوجرانوالہ جیل میں وزیر آباد کا ایک اسکول ماسٹر جو بڑا ذہین اور تیز کوئی فقرہ لکھ کر اندر رکھ دیا۔غرض چار پانچ روز یونہی ہوتا رہا۔مگر ماسٹر خاموش طرار معلوم ہوتا تھا پکڑا آیا وہ اپنے وطن میں محکمہ تعلیم کا ملازم تھا۔ایک ہندو تھا۔آخر چھٹے یا ساتویں دن اُس نے یہ لکھ کر کہ ”میں تو ہوشیار ہوں کہیں تم نہ ادھیڑ عمر کی بیوہ نے اُسے اپنے لڑکے کو پرائیوٹ تعلیم دینے کے لئے ٹیوشن پر بول پڑنا۔خالی برتن میں رکھ دیا اور دستر خوان لپیٹ کر واپس بھیج دیا۔اس رکھ لیا تھا۔رفتہ رفتہ ماسٹر نے لڑکے کو اپنے ساتھ اتنا ہلا لیا کہ ہر جگہ اُسے ساتھ سے یہ پتہ تو لگ گیا کہ ماسٹر جرم میں شریک تو ضرور ہے مگر یہ کون شخص جسے اُس نے جواب دیا ہے؟ لڑکے کو بلا کر پوچھا کہ ماسٹر کا دوست اور ملنے ہے ساتھ لئے پھرتا تھا۔چند روز کے بعد لڑکے کو سینما دکھانے لے گیا۔پھر روز ہی لے جانے لگا۔ایک دن سینما کے انٹرول (وقفہ ) میں لڑکے سے کہنے لگا کہ تو والا کون کون ہے؟ اُس نے کہا: ایک پٹھان ہے (جس کے ساتھ لڑکے نے اُس پٹھان کے ساتھ چائے پی اور میں ابھی آتا ہوں۔پٹھان اور لڑکا دوکان پر سینما میں چائے پی تھی) اُس سے ماسٹر کا بہت یارانہ ہے۔تھانہ دار نے اُس چائے وغیرہ پیتے رہے اور ماسٹر تھوڑی دیر غائب رہ کر واپس تماشا دیکھنے آگیا۔پٹھان کو گرفتار کر لیا۔اور ماسٹر سے الگ کر کے دم دلا سا دے کر جو پوچھا تو وہ تماشا ختم ہونے پر ماسٹر اپنے گھر چلا گیا اور لڑکا اپنے گھر لڑکے نے جونہی گھر پھوٹ پڑا کہ یہ ماسٹر ہی کا کام ہے مگر تفصیل مجھے معلوم نہیں۔اُس نے مجھ سے کے کمرہ میں قدم رکھا تو کیا دیکھتا ہے کہ ماں قتل ہوئی پڑی ہے اور اس کا سر چھری مارنا اور ذبح کرنا سیکھا ہے۔مگر اتنا پتہ ہے کہ اس عورت کے لڑکے کو ندارد ہے۔رونے پیٹنے لگا۔اہل محلہ جمع ہو گئے۔پولیس آگئی اور نعش پوسٹ چائے کی دکان پر میرے سپرد کر کے اُس نے اس عورت کے گھر پہنچ کر اُس کو مارٹم کے لئے چلی گئی۔ماں بیٹے اکیلے رہا کرتے تھے کسی کو پتہ نہ لگا کہ کون ذبح کیا ہے۔سر وغیرہ اس عورت کا کہیں دبا دیا ہے۔قاتل ہے۔صرف وہ ماسٹر اُن کے گھر آیا جایا کرتا تھا۔اب اُس نے بھی آنا جب تھا نہ دار کی تشفی ہو گئی کہ ماسٹر ہی اصلی مجرم ہے تو اُس نے ماسٹر