آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 109 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 109

215 214 نہایت کامل اور حاذق ہیں انہیں دکھاؤ ماسٹر صاحب نے کہا جانے کو تو میں تیار ہوں لیکن ان سے سفارش کون کرے؟ فضلی صاحب نے میرا نام لیا اور شام کو ماسٹر صاحب میرے پاس آئے۔واقعہ بیان کیا اور کہا ”ایک خط ڈاکٹر صاحب کو لکھ دیں“ میں نے حضرت استاذی المحترم ڈاکٹر میر محمد اسمعیل کے نام انہیں ایک تعارفی عریضہ لکھ دیا۔جسے لے کر ماسٹر صاحب دوسرے دن سونی پت پہنچے۔رقعہ پڑھ کر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ”آپ بیٹھ جائیں میں جب روزانہ کے مریضوں سے فارغ ہو جاؤں گا تو اطمینان سے آپ کو دیکھوں گا“ مانی صاحب بیچارے ماسٹر صاحب بیچارے نہایت امید و بیم کی حالت میں کرسی پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگے۔دو پہر کو بارہ (12) بجے کے قریب ڈاکٹر صاحب مریضوں سے فارغ ہوئے تو فرمانے لگے کہ ہاں صاحب اب چلئے آپ کا ملاحظہ کروں“ وہ انہیں کمرے میں لے گئے اور ایک میز پر لٹا دیا۔اپنی جیب سے سینہ دیکھنے کا آلہ نکالا اور بہت غور کے ساتھ ملاحظہ شروع کیا۔بیچ میں بہت سے سوالات بھی کئے۔اور آخر میں کہنے لگے ”میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ تمہیں نہ تو دق ہے اور نہ دق کے آثار ہیں۔“ ماسٹر صاحب : جناب! پانی پت میں تو حکیموں اور ڈاکٹروں نے متفقہ 66 طور پر دِق ہی تجویز کی ہے۔ڈاکٹر صاحب : ماسٹر صاحب ! اپنی اپنی تشخیص ہے۔مجھے دوسرے کے خیال پر رائے زنی کرنے کا کوئی حق نہیں میں تو آپ کو صرف اپنی رائے بتا رہا ہوں۔“ ماسٹر صاحب : اچھا ڈاکٹر صاحب! اگر مجھے دق نہیں تو پھر ہمیشہ بخار کیوں رہتا ہے۔ڈاکٹر صاحب : اس کی وجہ میں ابھی پانچ منٹ میں آپ کو بتائے دیتا ہوں۔آپ ذرا بالکل سیدھے لیٹ جائیں اور منہ کھول لیں۔“ یہ کہہ کر ڈاکٹر صاحب نے شیشے کی الماری میں سے ایک بیحد چمکدار اور نہایت باریک تار جو شاید جست کا تھا یا تانبے کا یا شاید اور کسی دھات کا نکالا۔تار کے سرے پر ایک دوسری ڈبیہ میں سے ذرا سی دوائی لگائی اور اُس تار کو ماسٹر صاحب کے حلق سے نیچے اُتارنا شروع کیا۔جب کافی اُتار چکے تو تار سینہ پر جا کر آخر ٹھہر گیا۔اب ڈاکٹر صاحب نے احتیاط سے بہت آہستگی کے ساتھ تار کو باہر کھینچنا شروع کیا، یہاں تک کہ پورا تار باہر آ گیا۔جب تار باہر آ گیا تو ماسٹر صاحب نے نہایت ہی حیرت کے ساتھ دیکھا کہ اس کے سرے پر جہاں دوائی لگائی تھی ایک بہت ہی چھوٹا کیڑا چھٹا ہوا ہے جو زندہ تھا اور حرکت کر رہا تھا۔اس عجیب و غریب عمل کے بعد ڈاکٹر صاحب فرمانے لگے ”بس ماسٹر صاحب! اٹھ کر بیٹھ جائیے اب آپ بالکل تندرست ہیں یہی دق تھی جو آپ کے سینہ پر چمٹی ہوئی تھی اور یہی کیڑا تھا جو اس غلط تشخیص کا باعث بنا ہوا تھا اور اس ہی کی وجہ سے آپ کو بخار بھی رہتا تھا اور طبیعت بھی مضمحل رہتی تھی۔انشااللہ اب ان میں سے کوئی بات نہ ہو گی۔آپ بخوشی اپنے گھر جا سکتے ہیں۔“ ماسٹر صاحب نے رُک رُک کر فرمایا ڈاکٹر صاحب! بہت ممکن ہے کہ ابھی اور کوئی کیڑا چمٹا ہوا ہو اور تھوڑے دنوں کے بعد پھر میری وہی حالت ہو جائے۔“ اس پر ڈاکٹر صاحب مسکرائے اور کہنے لگے "ماسٹر صاحب یہ آپ کا خیال ہی خیال ہے اب کوئی کیڑا اندر نہیں رہا۔اگر ہوتا تو اس دوائی پر لگا چلا