آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 110
216 آتا۔تا ہم آپ کا پورا اطمینان کئے دیتا ہوں۔“۔یہ کہہ کر ڈاکٹر صاحب نے پھر وہی تار دوائی لگا کر ماسٹر صاحب کے حلق میں سے نیچے اُتارا۔اب جو اُسے نکالا تو بالکل صاف تھا۔ماسٹر صاحب راستہ بھر یہ سوچتے چلے آئے کہ ڈاکٹر کیسا عجیب انسان اظہار تشکر محترم حکیم محمد رفیع ناصر صاحب ( ناصر دوا خانہ ربوہ ) اس کتاب کی اشاعت میں مالی معاونت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔ہے اور وہ کس حیرت انگیز فراست کے ساتھ مرض کی تہہ تک پہنچ گیا۔وہ اب تک بھی کہا کرتے ہیں کہ غلط تشخیص سے میں مرنے کے بالکل قریب ہو گیا تھا مگر صحیح تشخیص اور درست علاج سے دوبارہ زندہ ہو گیا۔کہ میرے والد محترم میاں محمد شفیع صاحب مرحوم لا ہور پولیس میں ملازم تھے۔اور میرے چچا قادیان جا کر احمدیت قبول کر چکے تھے۔۔۔میری پیدائش 1928 کی ہے والدہ محترمہ رسول بی بی صاحبہ 1930 میں وفات پا گئی تھیں میرے والد صاحب مجھے بتایا کرتے تھے۔کہ ایک دن تمہاری والدہ نے مجھے کہا کہ ”ہمیں قادیان جاکر بیعت کرلینی چاہئے۔جن کی مخالفت ہوتی ہے وہ بچے ہوتے ہیں تو میں نے کہا کہ آج کے بعد میں تمہارے منہ سے یہ بات نہ سنوں۔میری والدہ کی وفات کے بعد والد محترم پولیس کی ملازمت چھوڑ کر قادیان چلے گئے اور احمدیت قبول کرنے کی سعادت پائی۔الحمد اللہ اب میرے بیٹے عبدالسمیع حامی دار لصدر جنوبی کے صدر ہیں۔ہم حکیم صاحب کی اس پیشکش پر اُن کے شکر گذار ہیں اور دعا گو ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ اُن کے والدین کے درجات بلند فرمائے آمین۔اور اہلِ خاندان کو نسلاً بعد نسل اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔آمين اللهم آمین فجزاهم الله تعالى احسن الجزاء في الدارين خيراً شعبہ اشاعت لجنہ اما اللہ کراچی