آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 79 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 79

155 154 مروں یا جیوں جب تک پر ان چلتے ہیں میں تو باہر ہی جاؤں گا۔“ چونکہ معاملہ نے کہا۔” آج آپ کی قسمت سے ہمارے ہاں کبوتر ہی پک رہے ہیں آپ اہم تھا میں نے اُسے پھر سمجھایا اور وہ کچھ کچھ مان بھی گیا۔مگر وقت آنے پر اُس تسلی رکھیں۔“ چنانچہ وہ تو اُس وقت لرزتے کانپتے اور جزاک اللہ کہتے ہوئے کی ضد پھر عود کر آئی۔دوسرے دن وارڈ قلی میرے پاس دوڑا ہوا آیا کہ وہ شخص اپنے بستر پر شفا خانہ میں چلے گئے اور میں نے شام کو ایک کبوتر مع شوربے کے اپنے بستر کے پاس گر کر مر گیا ہے۔کہنے لگا کہ وہ رفع حاجت کے لئے اُٹھ اُن کو بھیج دیا۔دوسرے دن کہنے لگے کہ میں کل دُنیا سے رخصت ہی ہو جاتا کر باہر جانا چاہتا تھا۔میں نے بہتیرا اُسے منع کیا مگر باز نہ آیا۔دو قدم ہی پلنگ اگر وہ کبوتر میرے پیٹ میں نہ جاتا۔میں نے کہا کہ آپ نے ضرور اُن سے پرے گیا ہو گا کہ تیورا کر گرا اور وہیں ٹھنڈا ہو گیا۔“ کبوتروں کو ہمارے ہاں لاتے ہوئے انجینئر صاحب کے نوکر کو دیکھ لیا ہو گا۔“ " (90) حکیم صاحب کی حکمت وہ تو چپ ہو گئے مگر ایک کمپاؤڈر پاس سے بول پڑا کہ ” دیکھا کیوں نہیں تھا۔؟ أن كکبوتروں نے ہی تو ان کو املی کے نیچے بٹھا کر لرزہ چڑھایا تھا۔اور انہوں گڑ گاؤں کے سول ہاسپٹل میں ایک متقی نیم حکیم میرے زیر علاج نے ہی پھر ان کو شفا بخشی تھی۔ہاں اتنی بات ہے کہ ان کو اس بیماری کا نسخہ یاد شفاخانہ میں داخل تھے۔ایک دن میرے ہمسائے ڈسٹرکٹ انجینئر نے کچھ جنگلی تھا ورنہ خدا جانے کیا ہوتا۔“ " (91) امیروں کے نخرے لاہور کا ذکر ہے کہ ایک سیٹھ کو بواسیر یعنی (فسچولا) کا مرض ہو گیا۔کبوتر ہمارے کھانے کے لئے بھیجے جنہیں حکیم صاحب نے بھی دُور سے دیکھ لیا۔تیسرے پہر کو حکیم صاحب میرے دروازے پر آ کر کراہنے لگے۔میں جو باہر نکلا تو دیکھا کہ وہ باقاعدہ ذبح شده مرغ کی طرح تڑپ رہے ہیں۔میں نے گھبرا کر پوچھا کہ حکیم جی! کیا ہوا“ کہنے لگے ” مر گیا۔میری ہڈی بیماری بغیر آپریشن کے اچھی نہیں ہوتی۔جب بیماری کے دورے بار بار تکلیف ہڈی میں سردی داخل ہو گئی ہے۔او جان نکلنے لگی ہے مجھے بچاؤ۔“ میں نے کہا دینے لگے تو سیٹھ صاحب نے مجبور ہو کر آپریشن پر رضامندی ظاہر کی۔پہلے تو کیا وجہ؟ کہنے لگے ” یہ جو شفاخانہ کے احاطہ میں املی کا درخت ہے میں غلطی وہ ڈاکٹر ہیرا لال صاحب کے پاس گئے اور اُن سے معاملہ طے کرنے لگے۔سے آج اُس کے نیچے کئی گھنٹے لیٹا رہا۔اس درخت کی تاثیر حکیموں نے زمہریر اُنہوں نے دیکھ کر کہا کہ ”ہاں آپریشن ہو جائے گا مگر آپ سے ہزار روپیہ ہے۔دوسرے لوگوں کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا مگر میں کمزور تھا کلیجہ کو فیس لوں گا۔‘ سیٹھ صاحب اس رقم کو زیادہ خیال کر کے وہاں سے چلے سردی چڑھ گئی ہے۔اور دانت سے دانت بجنے لگا ہے۔ہائے کیا کروں۔اوئی آئے۔یار دوستوں سے صلاح مشورہ کیا۔پھر کرنیل ہیوگو صاحب کے پاس مر گیا۔ہائے ہڈیوں کا گودا بھی ٹھنڈا ہو گیا۔میں نے پوچھا ” آخر اس کا کیا گئے۔انہوں نے کہا ”ہاں میں ضرور آپریشن کر دوں گا۔سیٹھ صاحب نے علاج ہو سکتا ہے۔؟“ بے دھڑک فرمانے لگے کہ: ”اب تو صرف کبوتر کا شوربا پوچھا ”اور فیس؟‘ صاحب نے کہا ”سو (100) روپیہ کافی ہو گا سیٹھ ہی میری موت کو روک سکتا ہے۔“ اس وقت میں حکیم جی کی حکمت کو سمجھا۔میں صاحب بہت خوش ہوئے اور دن اور وقت کا فیصلہ کر کے آ گئے۔جب لکھی