آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 80
157 156 آپریشن کے لئے کرنیل صاحب اُن کے گھر پر آئے اور آپریشن کے لوازمات صاحب نے کہا ”نہیں میں آپ کو بھی تین سو (300) دلواؤں گا۔تسلی رکھیں‘‘ تیار ہو گئے تو سیٹھ صاحب کو یہ وہم پیدا ہوا کہ انگریز کا کیا اعتبار؟ خدا جانے چنانچہ آپریشن کے بعد صاحب نے مطالبہ کیا اور ڈاکٹر صاحب نے اُن کی تائید کیا کاٹ کر رکھ دے۔یہ تسلی کیونکر ہو گی کہ آپریشن ٹھیک ہوا ہے یا نہیں ! یہ کی کہ سو (100) روپیہ ایسے کام اور ایسے سیٹھ کے لئے بہت تھوڑی رقم ہے“ خیال آتے ہی انہوں نے ایک آدمی ڈاکٹر ہیرا لال صاحب کے پاس بھیج کر چنانچہ تین سو روپیہ صاحب کو اور ہزار روپیہ ڈاکٹر صاحب کو دیے گئے اور پیچھے اُن کو بلایا اور کہا کہ ” ہمارا ارادہ تو کرنیل صاحب سے ہی آپریشن کرانے کا روزانہ مرہم پٹی کے لئے جو باضابطہ خرچ ہوتا رہا وہ الگ۔ہے لیکن تسلی آپ کے بغیر نہیں ہوتی۔آپ صرف چند منٹ کھڑے ہو کر اتنا دیکھ لیں کہ آپریشن ٹھیک ہو گیا ہے یا نہیں؟ جیسا اپنے ہم وطن پر اعتبار ہو سکتا ہے ویسا دوسرے پر نہیں ہو سکتا۔فرمائیے اس تھوڑی سی دیر کے یہاں کھڑے ہونے کی آپ کیا فیس لیں گے؟“ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ”ہزار روپیہ سیٹھ صاحب کہنے لگے۔”صاحب نے ایک سو روپیہ آپریشن کا لیا ہے۔آپ اُن سے زیادہ کس طرح لے سکتے ہیں؟“ ایسے وہم بھی امارت کے کھیل ہیں۔(92) ملتانی منگواؤں؟ ملتان کے علاقہ میں مغرب کی پہاڑیوں سے وہ مٹی نکلتی ہے جسے گا چنی یا ملتانی مٹی کہتے ہیں اور جسے چھوٹی جماعتوں کے طالب علم اپنی تختیوں پر ملا کرتے ہیں۔اس طرف کے اضلاع میں دستور ہے کہ جب کسی صاحب ڈاکٹر ہیرا لال کہنے لگے ” یہ آپ کی مرضی ہے خواہ مجھ سے آپریشن ثروت کے لڑکے کا بیاہ ہو کر بہو گھر میں آ جاتی ہے تو سب گھر والے نئی دلہن کرائیں خواہ آپریشن کے وقت مجھے کھڑا کر لیں اور کام کچھ نہ لیں فیس ایک ہی ہو گی ؟“ کے متعلق ماں بننے کا انتظار بیاہ کے چند دن کے بعد ہی شروع کر دیتے ہیں۔بڑے لالہ صاحب اپنی گھر والی سے روزانہ با قاعدہ پوچھتے رہتے ہیں کہ ”کہو سیٹھ صاحب کے دل میں تو خوف اور ڈر کا چور تھا بہت قیل و قال بہو کا کیا حال ہے، ملتانی مٹی منگواؤں؟ آخر کسی روز اُن کے گھر والی بھی کہہ کے بعد مجبوراً راضی ہو گئے۔غرض آپریشن ہو گیا۔کرنیل صاحب نے ڈاکٹر دیتی ہے کہ آثار تو معلوم ہوتے ہیں، اب منگا لیں“ چنانچہ پانچ سات روز صاحب سے کہا کہ سیٹھ صاحب آپ کے دوست معلوم ہوتے ہیں؟ ڈاکٹر کے بعد ایک اونٹ جس پر قریباً چھ من ملتانی مٹی لدی ہوئی ہوتی ہے گھر پر آ صاحب نے کہا کہ اصل میں پہلے یہ مجھ سے آپریشن کرانا چاہتے تھے۔میں جاتا ہے۔اور وہ ملتانی اُن کی بہو کے سرہانے بوریوں میں بھر کر رکھ دی جاتی نے ہزار روپیہ طلب کیا تھا مگر سو روپیہ پر آپ نے ان کا آپریشن کر دیا لیکن ہے۔مطلب اس ساری بات کا یہ ہوتا ہے کہ ماشاء اللہ بہو کو حمل ہے۔اس کا جی اعتبار تو ان کو مجھ پر تھا اس لئے بلا کر کھڑا کر لیا ہے اور اس کھڑے ہونے کی ضرور مٹی کھانے کو چاہتا ہو گا۔اگر خوشبودار سوندھی سوندھی ملتانی مٹی اُسے ہر وقت خواہش کے وقت نہ ملے گی تو اُس کی اور بچہ کی صحت پر بڑا اثر پڑے گا۔فیں بھی میں نے ہزار روپیہ ہی لی ہے۔66 صاحب ہنس کر کہنے لگے کہ ”پھر تو ہم ہی خسارہ میں رہے“ ڈاکٹر اس علاقہ میں تو حاملہ عورتیں منوں مٹی حمل کے دوران میں کھا جاتی ہیں، اور ان