آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 74
145 144 کرنے کے نتائج۔ہیں۔یہ ہیں پراپیگنڈے کے کرشمے اور دواؤں کے اصل اجزاء لیبل پر ظاہر نہ رکھے گئے۔اس بیچارے نے بھی یوکسنین اور ایسپرین ملا کر لڑکے کو دینی شروع کی جس سے کچھ پسینہ بھی آ گیا۔مگر ڈاکٹروں اور علاج کا سلسلہ رات بھر برابر ایک دن مجھے ایک شخص دوڑتا ہوا اپنے گھر پر بلانے آیا کہ میرا چلتا رہا۔جو بھی آیا اُس نے اپنے تئیں پہلا معالج سمجھ کر مریض کے حلق نوجوان لڑکا ڈوب گیا ہے۔اس کو پانی سے نکال کر رکھا ہوا ہے۔آپ دیکھ لیں میں کونین ٹھونسی اور غضب یہ کہ سیٹھ صاحب ایک ایک دودو گھنٹہ بعد معالج کہ جان باقی ہے یا نہیں میں جب اُس کے گھر پر پہنچا تو ایک دہلی کا پاس کردہ بدلتے رہے اور نتیجہ کا انتظار کئے بغیر معالج سے یہ مطالبہ کرتے رہے کہ ”بخار حکیم آلہ سینہ بین غریق کی ٹھڈی پر لگا کر آواز سُن رہا تھا۔پھر کہنے لگا اس کی ابھی اُتر جائے۔اور کسی کو یہ نہ بتایا کہ تم سے پہلے بھی کوئی ڈاکٹر آیا تھا۔اور وہ جان عجب الذنب میں آ گئی ہے۔اگر کوشش کی جائے تو کامیابی ہو سکتی یوکنین کی پڑیا یا ایسپرین اور کونین کی کچٹ کھیلا گیا تھا۔یا کونین مکسچر پلایا گیا تھا۔آخر کونین کھاتے کھاتے لڑکے کو سخت ہذیان شروع ہو گیا۔پچھلی رات کو اُسے ایک ڈاکٹر نے کونین کا ٹیکہ زیر جلد لگایا اور صبح ہوتے ہوتے آخری معالج ہے۔۔۔!! حالانکہ غریق ایک گھنٹہ ہوا مر چکا تھا۔(84) احمقانه رازداری نے جسے پہلے علاج کا علم نہ تھا ورید کے اندر 5 گرین کونین ڈال دی۔نتیجہ یہ ایک شہر میں ایک سیٹھ صاحب رہا کرتے تھے۔اُن کا ایک لڑکا سات ہوا کہ اٹھارہ گھنٹہ کے اندر قریباً ایک ڈرام کو نین مریض کے اندر پے در پے پہنچ آٹھ سال کی عمر کا تھا۔سیٹھ امیر تو تھے ہی مگر وہمی بھی حد درجہ کے تھے اور لڑکا گئی۔جس نے اُسے بسرعت اللہ میاں کے ہاں پہنچا دیا۔یہ ہے نتیجہ اخفا کی بھی اکلوتا اور بہت پیارا تھا۔ایک دن لڑکے کو بخار ہو گیا۔جھٹ گلی کے نکڑ والے ڈاکٹر کو بلا کر دکھایا تو اُس نے کونین مع فیور مکسچر کے دیدیا۔ہندوستان میں ملیریا کی اتنی کثرت ہے کہ ہر بخار کی تشخیص ابتدائی ایام میں عموماً ملیریا ہی ہوتی ہے۔سیٹھ صاحب نے ایک گھنٹہ کے بعد بے وقوفی اور احمقانہ راز داری کا۔(85) ذرا سا فرق خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے۔اور جس کو چاہتا ہے بخار میں کمی نہ دیکھی تو جھٹ بڑے بازار والے ڈاکٹر کو بلایا اور نوکروں ذلت۔بات وہی ہوتی ہے مگر اُس کے نتیجہ میں ایک کا ذکر خیر ہونے لگتا ہے کو سمجھا دیا کہ ہرگز کوئی شخص اُس ڈاکٹر کو یہ نہ بتائے کہ گلی والا ڈاکٹر پہلے یہاں اور دوسرے پر لعنت کی پھٹکار پڑنے لگتی ہے۔ہوگیا ہے۔چنانچہ وہ ڈاکٹر بھی آیا اور اُس کو بتایا گیا کہ ابھی تک کسی ڈاکٹر نے ایک شخص تھے اُن کی عمر ستر سال کے قریب تھی۔ایک دن سجدے مریض کو نہیں دیکھا نہ کسی کا علاج ہوا ہے۔اُس نے بھی قدیم رواج کے موافق میں اُن کی حرکت قلب بند ہو گئی۔دیر تک نہ اُٹھے۔لوگوں نے دیکھا تو مرے اُسے کونین کی کچٹ اور کوئی مکسچر دید یا ایک گھنٹہ کے بعد سیٹھ صاحب نے چوک پڑے تھے۔فوراً ان کی بزرگی کا چرچا اور ولایت کا ڈنکا بجنے لگا واہ واہ ہونے والے ڈاکٹر کو بلوایا اور اس سے بھی پہلے ڈاکٹروں کے نام اور ان کے نسخے مخفی لگی۔صرف اس وجہ سے کہ اُن کا سجدہ کے اندر انتقال ہوا تھا۔