آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 71
139 138 کا نہایت قابل قدر نمونہ دکھایا۔(79) عورت دُنیا کی زندگی ہے دو بعض تو شاباش دے رہے تھے اور بعض کہہ رہے تھے۔”مفت کی چوٹ جلا ہا میں نے کہا کہ اس کے جسم پر وہی نشان شناخت موجود ہے جو دوماہ ہوئے کھائے۔مگر میں خیال کر رہا تھا کہ اُس نے چھوٹی سی عمر میں برادرانہ ہمدردی میرے رجسٹر میں نوٹ کیا گیا تھا۔“ عدالت نے پوچھا وہ کیا نشان ہے؟“ میں نے کہا ”اس شخص کے بائیں بازو پر ایک تنگی عورت کی تصویر کھدی ہوئی ہے۔یہ کہ کر میں نے اس کے بازو پر سے کپڑا اونچا کردیا۔ڈاکٹر جب کسی مضروب کا معائنہ کرتا ہے تو اپنے رجسٹر میں اس کسی فسانہ کی کتاب میں ایک قصہ پڑھا تھا کہ ایک عدالت میں کوئی مضروب کا نام عمر ذات تاریخ وقت ملاحظہ اور چوٹیں سب کچھ درج کرتا مقدمہ ہورہا تھا۔حاضرین جمائیاں لے رہے تھے اور کسی شخص کو بھی ملزم سے ہے۔علاوہ ازیں ایک نشان شناخت کا بھی ضرور لکھا کرتا ہے تا کہ اگر مقدمہ لے کر مجسٹریٹ تک کوئی دلچپسی مقدمہ میں نظر نہ آتی تھی کہ یکدم ایک عورت چلے اور وکیل یہ جرح کرے کہ آپ نے اس مضروب کا جو حاضر عدالت ہے بطور گواہ کے عدالت میں پیش کی گئی۔اس کا پیش ہونا تھا کہ عدالت دیکھتے معائنہ کیا تھا یا وہ کوئی اور شخص تھا۔؟“ اُس وقت ڈاکٹر جواب دیتا ہے کہ وہ دیکھتے گرم ہوگئی۔ہر شخص مقدمہ میں دلچسپی لینے لگا اور تھوڑی دیر میں کمرہ یہی شخص ہے کیونکہ میں نے اس کا جو نشانِ شناخت اپنے رجسٹر میں لکھا تھا وہ ناظرین سے بھر گیا۔گویا عدالت میں جان پڑ گئی۔بعینہ یہی بلکہ اس سے بڑھ اس کے جسم پر موجود ہے۔مثلاً یہ کہ مضروب کے دائیں رخسار پر ایک تل ہے۔کر حال میرے سامنے اس مقدمہ کا ہوا۔جب میں نے مضروب کے بازو کی یا دونی کے برابر ایک پرانے پھوڑے کا نشان ٹھوڑی پر موجود ہے یا مضروب کا برہنہ زنانہ تصویر لوگوں کے سامنے کھول دی شاید ایک زندہ اور ملبوس عورت سے نام انگریزی حرف میں اُس کے بازو پر گھدا ہوا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔عدالت میں وہ بجلی کی لہر نہ دوڑتی جتنی ایک کھدی ہوئی ننگی عورت کی تصویر " ایک دفعہ میں جالندھر کی ایک عدالت میں ایک فوجداری مضروب کے سے۔مجسٹریٹ اُس کو دیکھنے کے لئے الگ دوہرا ہوا جاتا تھا۔وکلاء الگ جھکے متعلق شہادت دینے گیا۔جب دے چکا تو وکیل صاحب نے مجھ سے پوچھا ہوئے تھے۔اہل مد کٹہرے پر سے الگ لڑکا پڑتا تھا۔منشی لوگ الگ الگ ہجوم کہ ڈاکٹر صاحب ! دو مہینے ہوئے آپ نے ایک شخص کا معائنہ کیا تھا۔جس پر کر کے آگئے تھے۔اور پبلک کا تو یہ حال تھا کہ اس تصویر کی زیارت کے لئے یہ ضربات تھیں۔مگر کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ یہ حاضر عدالت وہی شخص ہے ایک پر ایک گرا پڑتا تھا۔گویا وہ عدالت کا کمرہ نہ تھا۔بلکہ تماشے کا ہال تھا۔جس کا آپ نے ملاحظہ کیا تھا۔؟ میں نے اُس شخص کے بائیں بازو پر سے برابر دس پندرہ منٹ تک یہی حال رہا۔بیسیوں لوگوں کی نگاہ شوق اس تصویر پر کپڑا اُٹھا کر ڈھانک دیا اور وکیل صاحب کو جواب دیا کہ ہاں یہ وہی شخص اس طرح گڑی ہوئی تھی کہ اٹھنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔اور اُدھر مضروب کا شرم ہے۔عدالت میں فریقین کے آدمی اور کئی تماشائی بھی تھے۔اور کمرہ اہل مقدمہ کے مارے یہ حال تھا کہ اگر زمین اُس وقت پھٹ جاتی تو وہ سما جاتا۔اور ناظرین سے بھرا ہوا تھا۔وکیل صاحب نے پھر سوال کیا۔”کیا ثبوت؟“ غرض عورت جس میدان میں بھی آجائے وہاں ایک جان اور زندگی