آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 69 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 69

135 134 " زبان کی یہ ناواقفی بڑے فساد یا نقصان کا موجب ہو جاتی ہے۔کسی علاقے میں ہے۔“ میں نے لڑکی کا نام رجسٹر میں لکھ لیا۔پھر پوچھا کہ ”لڑکی کی عمر کیا بادنجاں کو بیگن کہتے ہیں اور کسی میں بتاؤں، کہیں شُہدا بدمعاش کو کہتے ہیں کہیں ہے۔؟“ بڑی دیر تک سوچ سوچ کر آخر اُس نے کہا کہ اگر اس کی شادی ہو شریف اور غریب کو۔کہیں ”لے ونج“ کے معنے ہیں لے جا۔اور کہیں اس کے جاتی تو دو بچوں کی ماں بن جاتی۔میں نے ہنس کر کہا۔کوئی بیس برس کی ہو معنے ہیں ”لے بانس“ میں ایک دفعہ ملتان کے علاقے میں نیا نیا لگایا گیا تھا۔گی؟ کہنے لگا۔سائیں! ہم لوگ ان پڑھ ہیں حساب اور گنتی نہیں جانتے جو وہاں چھوٹی لڑکی کو ”مائی" کہتے ہیں۔ایک شخص آ کر کہنے لگا کہ بخار کی دوائی تیری مرضی ہولکھ لے۔“ چاہئے۔“ میں نے پوچھا ”کس کے لئے؟“ کہنے لگا ”ایک مائی ہے اُسے اسی طرح ایک بڑھا جو ستر سال سے کسی طرح کم نہ تھا۔ایک دفعہ دوا روزانه بخار ہو جاتا ہے۔میں نے عمر نہ پوچھی اور اندازہ کر لیا کہ کوئی عورت ہو لینے آیا۔جب میں نے اُس سے عمر پوچھی تو بے ساختہ کہنے لگا یہی کوئی پندرہ گی پچاس ساٹھ سال کی۔چنانچہ میں نے بائی کا نام لکھ کر دس گرین کونین کا سولہ سال کا ہوں گا۔“ مکسچر اُس کے لئے لکھدیا۔دوسرے دن وہ شخص پھر آیا اور اُس کی گود میں چھ سات مہینہ کی ایک لڑکی تھی۔پرچی میرے سامنے رکھ کر کہنے لگا کہ ”کل اس مائی کے لئے بخار کی دوا لے گیا تھا مگر وہ اس کے پیٹ میں نہیں کی۔کوئی ایسی (76) پہلے کرتے ہیں پھر بھرتے ہیں ایک بڑے عہدہ کے سرکاری افسر تھے جو میرے ملنے والے بھی تھے۔دوائی دیں جو بچ جائے۔میں نے کہا یہ تو کسی بڑی عورت کی پرچی ہے۔“ جب ان کی زیادہ ترقی ہو گئی تو انہوں نے اپنی بیوی کو انگریزی پڑھانے کے کہنے لگا۔”نہیں۔اسی مائی کے لئے آپ سے کل ہی یہ نسخہ لکھوا کر لے گیا تھا۔“ لئے ایک گورنس رکھی۔پھر بیوی کو حکم دیا کہ یہ کیا بیہودہ پردہ ہے جو تم میرے اُس وقت مجھے معلوم ہوا کہ اس علاقے میں لڑکی کو خواہ وہ کسی عمر کی ہو مائی دوستوں سے کیا کرتی ہو۔اسے چھوڑ دو۔غرض زبر دستی اُس سے پردہ بھی چھڑا کہتے ہیں۔میں نے کہا۔” تیری مائی کی قسمت اچھی تھی کہ اسے دوا تے ہو گئی۔دیا۔اس کے بعد انہوں نے اُس کو اپنے دوستوں سے بے جھجک کرنے کے لئے یہ وطیرہ اختیار کیا کہ کسی دوست کو شام کی چائے پر بلا لیتے اور آپ گھر سے اگر اندر رہ جاتی تو شاید یہ آج قبر میں ہوتی۔کیونکہ چھ ماہ کی بچی کے لئے دس گرین کونین کی مقدار مہلک ہو سکتی ہے۔66 (75) دیہات کے ان پڑھ میں مغربی پنجاب کے علاقے کے ایک شفاخانہ میں ابتدائی ملازمت نکل جاتے تاکہ بیوی بے تکلفانہ غیر مردوں سے بات چیت کر سکے۔جب کئی سال اس قسم کی پریکٹس اور مشق کو ہو گئے تو ایک دفعہ اُن کے ہاں بچہ پیدا ہوا جس کا رنگ اُن کے دوسرے بچے سے کچھ زیادہ سانولا تھا۔آدمی تھے شکی فوراً ناحق کی بدظنی کر لی کہ میرا فلاں دوست جو بیرسٹر ہے اور قدرے سیاہ رنگ کا کے زمانے میں متعین تھا۔کہ ایک دن ایک بڑھا شخص خاصا سفید پوش بظاہر ہے یہ بچہ اس کا ہے (حالانکہ وہ خود بھی گورے نہ تھے ) وہی بے تکلفانہ سمجھدار میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ” مجھے اپنی لڑکی کے لئے کچھ مرہم درکار ہمارے ہاں آیا جایا کرتا تھا۔