آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 68 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 68

133 132 " تو پھر میں اسے تھانہ میں چھوڑ آؤں۔پولیس والے آپ ہی اس کے وارثوں کو ہے۔گورا پتلا دبلا ہے اور روئی کا کوٹ اور اونی کنٹوپ پہنے ہے غالباً لوئر ڈھونڈ لیں گے۔میں نے دیکھ کر کہا کہ یہ بچہ تو میرا بھی دیکھا ہوا ہے آپ کو بازار کے آس پاس سے نالی میں گرا ہے اور پھسلتا پھسلتا نالیوں نالیوں ہوتا ہوا کہاں سے ملا؟ کہنے لگا کہ ”میں نیچے کھڑ میں جہاں کمیٹی کے جانور ذبح کئے میل ڈیڑھ میل نیچے کھڑ میں مدیح کے پاس جا نکلا ہے۔اگر کسی کا گم ہو گیا ہو تو جاتے ہیں اور جہاں اُن کا خون اور گوبر جمع رہتا ہے کھڑا تھا کہ لوئر بازار کی جانب سے یہ لڑکا میٹی کی نالی میں بڑے زور سے طوفان میل کی طرح نیچے کی طرف آتا نظر آیا۔خدا جانے میں بھر اوپر سے آ رہا تھا یا ڈیڑھ میل سے۔کاٹ روڈ کے پل کے نیچے سے یہ گزرا۔لداخی محلہ کی نالی میں سے یہ گزرا۔غرض وہ اُسے بڑے تھانہ میں سے لے جائے۔ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ شفاخانہ کے ایک کمپاؤڈر مولوی یحیی خان ڈسپنسری میں سے کام کر کے باہر نکلے۔اور لوگوں کا ہجوم دیکھ کر سیدھے ادھر کو ہی آئے اور کہنے لگے۔” یہاں کیا ہے؟ لوگوں نے کہا جی کسی کا لڑکا ہے جس کے والدین کی تلاش ہو رہی ہے۔نیچے کئی پل اور پلیاں گزرتا 40 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے یہ نیچے کی طرف آیا۔اگر یو چڑ خانہ کے پاس سے ملا ہے۔یحیی خاں کو بھی لڑکے کی شکل دیکھنے کا شوق سخت زمین پر اس رفتار سے پہنچتا تو پاش پاش ہی ہو جاتا۔مگر نالی کے آخر پر ہوا۔بھیڑ کو چیر کر آگے بڑھے تو دو آوازیں میں نے سنیں۔ایک تو یحییٰ خاں کی خون اور گوبر وغیرہ کا ایک بڑا ڈھیر تھا یہ غاپ سے اُس کے اندر جنس گیا۔اگر ارے یہ تو میرا بیٹا ہے۔؟“ اور دوسری لڑکے کی ”ابا! مجھے لے لو۔مجھے بے میں دیکھنے والا موجود نہ ہوتا تو یہ اس میں ہی زندہ درگور ہو جاتا۔لیکن میں غل اختیار ہنسی آگئی۔سوچ رہا تھا کہ جبھی یہ لڑ کا صورت آشنا معلوم ہوتا تھا اتنے میں مچاتا ہوا دوڑا اور لوگوں کی مدد سے اسے نکالا۔پہاڑی کے پہلو کی نالیاں بہت یحییٰ خاں کہنے لگے کہ ابھی تھوڑی دیر ہوئی کہ میں گھر سے نکلا۔لڑکا میرے ترچھی ہوتی ہیں۔پھر اُن میں چینی اور سیمنٹ کا فرش ہوتا ہے۔جو پانی بہتے پیچھے پیچھے تھا اور نالی پر کھڑا تھا۔میں تو شفاخانہ کے اندر کام کے لئے چلا گیا بہتے اتنا چکنا ہو جاتا ہے کہ کوئی چیز اس میں ٹھہر نہیں سکتی۔خوش قسمتی کی بات یہ اور یہ غالباً نالی پھلانگنے کی کوشش میں اس کے اندر ہی جا پڑا۔بس پھر کیا تھا ڈون ایکسپرس بن گیا۔اور کچھ عجب نہیں کہ تین منٹ میں میل بھر نیچے جا پہنچا ہو۔اس روئی کے کوٹ نے اسے بچایا۔نہیں تو سارا زخمی ہو جاتا۔اور گندگی کے ڈھیر نے اس کی جان رکھ لی۔ورنہ کسی سخت جگہ جا کر گرتا تو ٹکڑے اُڑ جاتے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے میرے بچے کو سلامت رکھا۔پھر اسی طرح گندے اور آلودہ کپڑوں سمیت اُسے اٹھا کر اپنے گھر کو جو سامنے ہی تھا چل تھی کہ لڑکے نے موٹا روئی دار کوٹ اور اونی ٹوپ پہن رکھا تھا جس کی وجہ سے کہیں رگڑ یا خراش نہیں لگی۔یہ سُن کر میں نے لڑکے کی ہڈیاں اور بدن ٹولا تو معلوم ہوا کہ کوئی چوٹ نہیں لگی۔لڑکا خاموش تھا بلکہ مسکرا رہا تھا۔گویا وہ بھی مجھے پہچانتا تھا۔رفتہ رفتہ ہمارے گرد بیماروں اور آنے جانے والے لوگوں کا ایک ہجوم ہو گیا اور چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ "بھئی! کوئی جانتا ہے کہ یہ کس کا بچہ ہے؟ آخر یہ صلاح ٹھہری کہ بچے کو نزدیک کے پولیس اسٹیشن میں بھیج دیا جائے۔اور ٹیلیفون کے ذریعہ دیگر سب تھانوں میں بھی اطلاع کر دی جائے کہ ایک لڑکا جو قریباً 3 سال کی عمر کا دیئے۔(74) زبان کے اختلاف کا فساد پنجاب کے مختلف حصوں کی بولیوں میں اتنا فرق ہے کہ بعض دفعہ