آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 55
107 106 ہے۔اب میں آپ کے پاس بھی اسی غرض سے آیا ہوں کہ یا تو یہ بارہ برس کا زخمی پیر اچھا کر دو یا اسے کاٹ ہی ڈالو۔میں نے معائنہ کر کے اور سارے اندازے لگا کر اُسے یہی کہا کہ اگر چہ تمہارا پیر خود بخود اچھا نہ ہو گا اور نہ آپریشن سے کچھ امید ہے کیونکہ اس کے اندر کی ہڈیاں بھی خراب ہیں مگر ابھی ایسا خراب نہیں ہوا کہ اسے کاٹ کر الگ کر دیا جائے۔کہنے لگا کہ بارہ سال تو مجھے مصیبت اُٹھاتے ہو گئے اور میں ساٹھ برس کا ہو گیا، اب کب تک انتظار کروں؟ میں نے کہا ”جب پیر زیادہ ناکارہ ہو جائے گا پھر آ جانا۔ابھی تو یہ تمہارا بوجھ اُٹھا لیتا ہے کٹ جائے گا تو صورت حال اس سے بھی بدتر ہو جائے گئی۔مگر بڑھے کی تسلی نہ ہوئی۔چلا گیا۔بارہ تیرہ سال کی تمنا اور مراد بر آئی تھی۔آخر گھوڑے پر سوار ہو کر وطن کو چلا گیا۔راستہ میں اور گھر پر جا کر وہ میرا ہی پراپیگنڈا کیا کرتا تھا۔اور کہتا تھا کہ بارہ سال کے بعد فلاں ڈاکٹر نے مجھے نئی زندگی بخشی ہے۔پھر ڈنڈا پکڑ کر اور پھدک پھدک کر لوگوں کو اپنی چال دکھاتا تھا۔آخر یہاں تک نوبت پہنچی کہ تیسرے چوتھے ہفتہ اُس کے علاقہ کا کوئی نہ کوئی آدمی علاج کے لئے میرے پاس آجاتا تھا۔ان میں بعض ایسے بھی تھے جن کے پیر یا پیر کی انگلیوں پر معمولی زخم مزمن قسم کے ہوتے تھے۔مگر وہ آتے ہی یہ کہتے تھے کہ ”ہمیں فلاں لنگڑے بلوچ نے بھیجا ہے اور آپ کو پیغام دیا ہے کہ ہمارا پیر کاٹ دیا جائے یعنی اُس نے اپنے جوش میں دوسروں کو بھی دیوانہ کر دیا تھا۔اور ایسے لوگ جب میں اُن کا پیر کاٹنے سے انکار کرتا تھا تو سخت مایوس ہو کر اگلے برس پھر آیا۔میں نے پھر بھی وہی پہلا سا جواب دیا کہنے لگا کوئی صورت بھی اس کے کٹنے کی ہے؟ میں نے کہا: ”ہاں اگر زخم ایسا خراب ہو جائے کہ پیر تمہارے کام کا بالکل نہ رہے تو میں یقیناً اسے کاٹ دوں واپس جایا کرتے تھے۔گا۔پھر چلا گیا مگر چند روز کے بعد ہی اس کے رشتہ دار اسے چار پائی پر ڈال کر شفا خانہ میں لے آئے بڑھا سر اُٹھا کر فخریہ کہنے لگا کہ: ”آپ کاٹیں گے ہی۔میں نے کہا: ”کیوں“۔بولا میں نے بندوق بھر کر اپنا پیر اُڑا دیا ہے۔اب تو خدا کے واسطے اس لعنت کو الگ کر دو۔میں نے کھول کر دیکھا تو واقعی بندوق کے چھروں سے پیر کے ٹکڑے اُڑ گئے (55) خانساماں کی درگت ایک دفعہ میں ایک نئی جگہ تبدیل ہو کر گیا۔جہاں کچھ دن کے بعد اطلاع ملی کہ ضلع کے صدر مقام سے صاحب سول سرجن تمہارے شفاخانہ کا معائنہ کرنے آرہے ہیں۔اُن کا قاعدہ یہ تھا کہ رات کی گاڑی سے اُتر کر ویٹنگ روم میں ٹھہر جایا کرتے تھے۔پھر گیارہ بارہ بجے دن کے شفاخانہ کا صدر مقام کو تشریف لے جایا کرتے تھے۔تھے۔اپنے ہاتھ سے اُس نے گراب بھر کر ماری تھی اور اس وقت وہ واقعی معائنہ کر کے ویٹنگ روم میں کھانا کھا کر تیسرے پہر کی گاڑی سے واپس اپنے آپریشن کا مستحق تھا۔چنانچہ میں نے پیر کاٹ دیا۔بڑھے میں صحت اور طاقت بہت تھی۔پندرہ دن میں بالکل اچھا ہو گیا۔اور اس قدر خوش تھا کہ حد بیان سے باہر ہے ہر شخص کو اپنی کٹی ہوئی ٹانگ دکھاتا تھا اور خوش ہوتا تھا۔بیچارے کی کہا کہ ” صاحب بہادر رات کو تشریف لے آئے ہیں اب اُن کا خانساماں آتا جس روز انہیں معائنہ کرنا تھا اُس روز صبح بڑے کمپاؤڈر نے مجھ سے