آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 54 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 54

105 104 (53) خدا کی ہستی کا ثبوت اب تو اکثر شہروں میں بجلی لگ گئی ہے مگر پہلے عموماً اچھی روشنی کے لئے گول بتی کا لیمپ استعمال ہوا کرتا تھا۔میز پر پڑھنے کے لئے بھی اور چھت پر لٹکانے کے لئے بھی۔گول بتی ، گول شعلہ اور گول چمنی، ان لیمپوں کی خصوصیت ہوا کرتی تھی۔ایک دن میں شفا خانہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ بارہ بجے کے قریب ایک لالہ جی اپنی دائیں آنکھ پر رومال رکھے ہوئے تشریف لائے۔میں نے پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگے کہ ہمارے ہاں گول بتی اور گول چمنی کا چھت گیر لیمپ ہے۔رات بھر وہ جلتا ہے اور صبح بجھا دیا جاتا ہے۔آج بھی حسب معمول صبح کے وقت بجھا دیا گیا۔میں اتفاقاً ابھی آدھ گھنٹہ ہوا کمرہ میں اُس کے نیچے کھڑا ہوا کہ چٹاخ سے کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز سنائی دی۔میں نے چھت کی طرف دیکھا ہی تھا کہ اتنے میں چاندی کی دونی کے برابر ایک ٹکڑا اس لیمپ کی چمنی میں سے الگ ہو کر سیدھا میری دائیں آنکھ کے اندر لگا۔میں درد کے مارے بے قرار ہو گیا۔اور بھاگا ہوا ہسپتال آیا ہوں“۔میں نے اُن کو لٹا کر آنکھ میں کوکین لوشن ڈالا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس شیشہ کے ٹکڑے کے تیز کنارے سے ان کی آنکھ صاف آدھم آدھ کٹ گئی ہے۔میں نے آہستہ سے وہ شیشے کا ٹکڑا جس سے مشیت الہی نے لالہ جی کی آنکھ کی چاند ماری کی تھی، زنبور سے پکڑ کر نکال دیا۔پھر آنکھ پر پٹی باندھ دی۔مجھے بظاہر کوئی امید نہ تھی کہ آنکھ بچ جائے گی۔مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ چند دن زخم اس طرح اچھا ہو گیا گویا کبھی لگا ہی نہ تھا۔لیکن ساتھ ہی آنکھ کی بینائی بھی جاتی رہی۔کیونکہ چوٹ کی وجہ سے اُس آنکھ میں موتیا بند پیدا ہو گیا۔دو ماہ کے مسلسل علاج کے بعد وہ موتیا بند بھی آہستہ آہستہ جذب ہو گیا اور مریض کو اچھا خاصا نظر آنے لگ۔میز پر گیا۔وہ شخص اب بھی زندہ ہے۔مگر خدائی تقدیر کا نشان دیکھو کہ دن کو لیمپ گل ہونے کے کئی گھنٹے بعد وہ چمنی چٹنی تقدیرا وہ شخص اس کے نیچے کھڑا تھا۔آواز سُن کر اوپر کو دیکھنا تھا کہ شیشے کا ٹکڑا سیدھا آنکھ کے اندر گھس گیا۔اور اُسے دوحصوں میں کاٹ دیا۔گویا اتفاقی بات نہ تھی بلکہ کسی صاحب ارادہ ہستی کا فعل تھا پھر یہ تماشا دکھا کر اسی ہستی نے مضروب پر رحم فرمایا اور اپنے کئے کو آن کیا کر دیا۔اور اتنا بڑا زخم اچھا ہو گیا۔مگر آنکھ کی بینائی جاتی رہی کیونکہ ایسے زخموں کا یہی قدرتی نتیجہ ہوا کرتا ہے۔اس کے بعد اُس ہستی نے پھر دوبارہ س شخص پر رحم فرمایا اور اس کا موتیا بند اندر ہی اندر ہفتوں میں تحلیل اور جذب ہو کر صاف ہو گیا اور مریض کو پھر دکھائی دینے لگ گیا۔قدرت کے ایسے افعال جن میں خدائی ارادہ خدائی رحم اور خدائی شفا شامل حال ہوں میں نے بہت دیکھے اور ساری عمر دیکھتا رہا ہوں۔اس لئے میں اُس ہستی پر یقین رکھتا ہوں جسے اللہ کہتے ہیں اور جس پر ایمان لائے بغیر انسان کبھی حقیقی سکھ اور سچی خوشی حاصل نہیں کرسکتا۔(54) سب کے پیر کاٹو مدت ہوئی میں جب بلوچستان کی سرحد پر تعینات تھا تو ایک بڑھا بلوچ میرے پاس پچاس کوس سے آیا۔اور اُس نے اپنا ایک پیر مجھے دکھایا۔جس میں کئی ناسور موجود تھے۔آتے ہی کہنے لگا کہ کئی سال ہوئے یہ چوٹ لگی تھی پھر پیر پک گیا اور برسوں سے پکتے پکتے یہ ناسور بن گئے ہیں۔آپ پہلے جو ڈاکٹر تھا میں اُس کے پاس بھی آیا تھا۔اور جو اُس سے پہلے تھا اُس کے پاس بھی۔مگر یہ زخم کسی سے اچھے نہ ہوئے۔آخر میں میں اُن سے کہا کرتا تھا کہ پھر میرا پیر ہی کاٹ دو مگر وہ انکار کرتے رہے کہ ابھی یہ کار آمد