آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 51
99 98 شہر میں ڈیڑھ سو گنواں ہے ہم نے ایک رات شہر کے ڈاکٹروں، نمبرداروں، خوفناک کام کے لئے استعمال ہونے کے واسطے آیا ہے۔میں نے اُن کو سلام ملازمین سرکاری اور پبلک کی ملا کر چار پارٹیاں بنائیں اور یہ انتظام کیا کہ کوئی کی اور شکست کھا کر چپکا چلا آیا کیونکہ بعض صورتوں میں باعزت واپسی فتح گنواں ایسا نہ رہے جس میں لال دوائی نہ پڑے چنانچہ شام سے صبح تک کنوؤں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔میں دوائی پڑتی رہی۔مگر حساب کرنے پر صبح معلوم ہوا کہ شہر میں سات سو (700) گنواں ہے نہ کہ ڈیڑھ سو۔خیر ایک گنواں رات کو کسی دوسری پارٹی کے (50) حامله مرد حصہ کا رہ گیا تھا۔اور رپورٹ یہ ملی تھی کہ مولانا نے دوا ڈلوانے سے جب میں سرسہ میں متعین تھا تو ایک دن ایک شخص تقریباً تمہیں انکار کر دیا ہے۔دوسرے دن میں خود اُن کے مکان پر پہنچا معلوم ہوا کہ اُن کی پینتیس سال کا بظاہر خاصہ سمجھدار میرے پاس شفا خانہ میں آیا۔اور کہنے لگا حویلی بڑی عالی شان ہے۔گنواں صحن کے بیچ میں تھا اس لئے اطلاع کرائی۔کہ ”میں دُور سے آپ کی شہرت سُن کر اپنے علاج کے لئے آیا ہوں۔مجھے مولانا کمال شائستہ صورت، نہایت گھنی اور لمبی ڈاڑھی کے ساتھ ایک جنگلی عمامہ دیکھ لیں۔میں نے کہا: ”کیا بات ہے؟ کہنے لگا ”اندر کمرے میں لٹا کر زیب سر کئے ہوئے باہر تشریف لائے۔مگر کندھے پر ایک پھاوڑہ بھی تھا میں دیکھیں۔میں نے کہا ”اندر ہی دیکھ لوں گا۔مگر تکلیف کیا ہے؟ کہنے لگا نے دیکھتے ہی خیال کیا کہ شاید اس آلۂ حرب سے وہ مجھے قتل کریں گے۔میں ” مجھے حمل ہے اس لئے اندر چل کر اچھی طرح ملاحظہ کریں۔مجھے بے نے نہایت ادب سے کہا ”مولانا دیکھئے شہر میں کیا موتا موتی لگ رہی ہے۔اختیار ہنسی آگئی اور میں نے اُسے مراق کا نسخہ لکھ دیا۔مگر وہ یہی کہتا رہا کہ سات سو میں سے صرف آپ کا ایک گنواں بغیر دوا کے رہ گیا ہے۔مہربانی فرما مجھے تو اپنا حمل دکھانا ہے۔آخر میں نے اُسے لٹا کر بھی دیکھا بات ہی بیہودہ تھی۔دیکھ کر بھی جب میری رائے اس سے متفق نہ ہوئی تو یہ کہہ کر چلا کر اس میں دوا ڈلوا لیں۔فرمائیے اجازت ہے؟ مولانا فرمانے لگے ”ڈاکٹر صاحب آپ جانتے ہیں کہ میں حکیم بھی گیا کہ دُور کے ڈھول سہاونے“۔ہوں۔اور ایک پختہ عقل، تجربہ کار اور معمر انسان ہوں میرا تو یہ تجربہ ہے کہ جب سے یہ زہریلی دوائیں کنوؤں میں پڑنی شروع ہوئی ہیں تب سے ہی سارے شہر میں جریان کا مرض وبا کی طرح پھیل گیا ہے۔اور آدھا شہر نامرد ہو چکا ہے۔یقین مانئے اگر آپ نے زبردستی میرے گھر کے کنویں میں دوا ڈال دی تو اسی پھاوڑے سے اپنی حویلی ڈھانا شروع کر دوں گا۔اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا“۔اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ یہ پھاوڑہ میرے قتل سے بھی زیادہ بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا (51) عہد کا پکا مگر مجبور میں گوجرہ ضلع لائلپور میں 1925ء میں تھا کہ ایک رات دس بجے کے قریب پولیس ایک معزز سکھ کو چار پائی پر ڈال کر ریلوے اسٹیشن سے اُتار کر شفا خانہ میں لائی۔اس کے ہمراہ اور کوئی آدمی نہ تھا۔اس کا قصہ یوں بیان کیا