آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 42 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 42

81 80 ہی تھا آوازیں آنی شروع ہوئیں۔بیگم صاحب! بیگم صاحب جی!! بیگم دن اچھی طرح دونوں ٹانگوں کی پٹیاں خوب نمایاں کر کے شفا خانہ کے مہتر کی صاحب !! رحم کرو۔رحم کرو، اجی بیگم! بیگم صاحب!! ارے کوئی بیگم صاحبہ گردن پر سوار ہو گیا اور کہنے لگا کہ ”چل عید گاہ لے چل۔تجھے تیرا حق پورا سے جا کر کہہ دو کہ ریلوے چور جس کی ٹانگیں کئی ہیں جامنیں مانگتا ہے۔خیر وہ دوں گا۔بس آج ہی کمائی کا دن ہے۔وہ بھی لالچ میں آ گیا۔عید گاہ میں وہ تو پہلا دن تھا۔جامنیں بھی آگئیں۔مگر میں نے یہ انتظام کر دیا کہ آئندہ اس کا چور اپنی کئی ہوئی ٹانگیں دکھاتا اور خیرات وصول کرتا پھرا حتی کہ دس پندرہ کوئی پیغامبر ہمارے گھر میں نہ آئے۔بلکہ ایک کمپاؤڈر کی ڈیوٹی بھی لگا دی کہ روپے وصول ہو گئے۔اُن میں سے مہتر کو ایک روپیہ دیا۔باقی جیب میں جو چیز مناسب اور ضروری ہو وہ اس کے لئے بازار سے منگوا دی جایا کرے۔رکھے۔اس کے بعد پھر اُس نے روزانہ یہی معمول کر لیا کہ مہتر کی پشت پر سوار اس کے بعد وہ شخص تندرست ہونا شروع ہوا اور اُس نے شفا خانہ کی ہو کر بازاروں میں نکل جاتا اور دو چار روپیہ با قاعدہ کمائی کر لاتا۔میں نے یہ زندگی بڑے ٹھاٹھ کے ساتھ شروع کی۔دوسرے تیسرے دن ہی مجھ سے کہنے حال سُن کر پوچھا تو کہنے لگا۔میں اپنی سلائی کی مشین کے لئے سرمایہ جمع کر لگا کہ اب میں انبالہ میں سلائی کی مشین خرید کر اور درزی بن کر گزارا کروں رہا ہوں۔اچھا تو وہ جلدی ہی ہو گیا تھا مگر اس کے مقدمہ کی پیشی مجسٹریٹ گا۔چار دفعہ قید بھگت چکا ہوں۔اسی ریلوے کی چوری کی بدولت یہ پانچویں کے روبرو ہونی باقی تھی۔اس وجہ سے اُسے شفاخانہ سے رخصت نہیں ملتی تھی۔دفعہ ہو گی۔دیکھئے کیا سزا ہو"۔خیر آٹھویں دن اُس کے ٹانکے کاٹ دیے گئے۔آخر وہ تاریخ بھی آگئی۔مجسٹریٹ صاحب کو میں نے صاحب ڈپٹی کمشنر سے زخم اچھے ہو چکے تھے۔رمضان کا آخری روزہ تھا۔کہنے لگا ” مجھے ایک گھنٹہ کے بقیه حاشیه صفحه گذشته: تہذیب و شائستگی کو ملیا میٹ کر ڈالا۔یہ داستان بے حد لئے کل عید گاہ جانے کی اجازت مل جائے“۔میں نے کہا۔” کیونکر جاؤ گے؟ درد ناک اور حد سے زیادہ دلخراش ہے۔جب پانی پت کی بربادی اور مسلمانانِ کہنے لگا۔کسی کو پیسے دے کر اُس کے کندھے پر چڑھ جاؤں گا۔ذرا مسلمان پانی پت کی تباہی کا خیال آتا ہے۔کلیجہ پر سانپ لوٹ جاتا ہے۔بڑی بڑی بھائیوں کی عید رونق تو دیکھ لوں۔میں نے اجازت دے دی اور وہ دوسرے ، نایاب لائبریریوں اور عظیم الشان علمی ذخیروں کو ظالموں نے جلا جلا کر اور بھاڑ 1 صد ہزار افسوس! کہ اب وہ عید اور اُس کی رونق سب خواب و خیال ہو پھاڑ کر برباد کر دیا۔ہم خانماں برباد لوگ جب تک زندہ رہیں گے اپنی علمی گئے۔نومبر 1947ء میں مسلمانانِ پانی پت کی چالیس ہزار آبادی کو نہایت درجہ بربادی پر خون کے آنسووں سے روتے رہیں گے۔خود میرا بڑا عجیب وغریب ناچاری و بے بسی اور انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں سخت مجبوری کے ساتھ کتب خانہ تھا۔اور میں نے بڑی محنت اور نہایت شوق سے اُسے جمع کیا تھا۔سکھوں اور ہندوؤں نے فوج اور پولیس کی مدد لے کر اُن کے گھروں سے نکال لیکن اس فتنہ عظیمہ سے سارے کا سارا تباہ ہو گیا۔جن علمی مسودات پر میں نے دیا۔اُن کے مال و اسباب، زمین و جائداد پر زبردستی قبضہ کر لیا اور اُن کی تمیں (30) برس محنت کی تھی سب ہی تو برباد ہو گئے۔اور میں اُن کو یاد کر کے مسجدوں اور عیدگاہ کو ڈھا دیا۔اور اس طرح مسلمانوں کی ایک ہزار برس کی آج حسرت کے ساتھ آہیں بھر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ مجھے صبر کی توفیق محمد اسمعیل پانی پتی (آمین) دے۔