آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 40
77 76 علیحدہ کر دی گئی۔اس کے بعد پھر کوئی حادثہ نہیں ہوا۔زخم بہت اچھی طرح بھرتا کے بعد مخالف رشتہ داروں نے میری ساری زمینیں ہتھیا کر خود کاشت کرنی رہا مگر آدمی ایک ٹانگ کا رہ گیا۔جب میں اُسے دیکھنے جاتا تو کہا کرتا کہ شروع کر دیں۔میں تن تنہا ، لنگڑا اور معذور بھلا کیا کر سکتا تھا۔آخر انہوں نے غینمت ہے جان تو بچ گئی۔میرے پاس کھانے پینے کو بہت کچھ ہے مگر چونکہ مجھے گاؤں سے بھی نکال دیا۔یا تو وہ امارت تھی یا اب بھیک مانگتا پھرتا ہوں“۔اب میں چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا ہوں ضرورت کے لئے ایک مصنوعی میں نے کہا: ”تم تو کہتے تھے کہ سلائی کی مشین لے لوں گا۔بلا سے درزی کا ٹانگ جیسی آپ فرماتے ہیں لگوالوں گا اور دل بہلانے کے لئے ایک مشین کام ہی کر لیتے۔کہنے لگا "سلائی کی مشین کیسی؟ مجھے تو اب ایک اچھی سی سلائی کی خرید لوں گا اور شوقیہ درزی بن جاؤں گا۔بانس کی لاٹھی خریدنے کی بھی توفیق نہیں۔جو ذرا سیدھا ہو کر ہی چل پھر سکوں خیر اس طرح وہ تقریباً اچھا ہو گیا کہ 1918ء کے انفلوئنزا کی وبا وہ مصنوعی ٹانگ پانچ سو روپے میں لینے اور سلائی کی مشین دوسو میں خریدنے پھوٹ پڑی اور اُس کے گاؤں سے خبر آئی کہ لوگ مکھیوں کی طرح مر رہے کے بھی خواب ہی تھے۔اب تو آدھے پیٹ روٹی بھی مل جائے تو غنیمت ہیں۔یہی حال خود پانی پت شہر کا تھا۔اس لئے وہ بھی اجازت لے کر اپنے ہے۔گاؤں چلا گیا اور کہہ گیا کہ مصنوعی ٹانگ میں آپ کی معرفت اور آپ کی صلاح سے خریدوں گا اور کبھی کبھی مشورہ کے لئے بھی آتا رہوں گا۔یہ کہہ کر وہ چشم پر آب ہوگیا اور میں بھی۔کیونکہ میں نے اُس کی جو شان گذشته سال دیکھی تھی۔کہاں وہ حال اور کہاں ہی۔وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ط (37) ریلوے چور وہ تو چلا گیا۔مگر اس کے بعد انفلوئزا نے دُنیا کو سب کچھ بھلا دیا۔جب اس مصیبت سے ذرا ہوش آیا تو اور مصروفیتوں کی وجہ سے مجھے اس کا کبھی خیال بھی نہیں آیا۔اسی طرح ایک سال پورا گزر گیا۔ایک دن کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص لاٹھی ٹیکتا اور ایک ٹانگ سے کودتا پھد کتا سامنے سے چلا آرہا ہے۔اُس کی صورت پر ایسی سیاہی ، مفلسی اور نحوست برس رہی تھی کہ میں نے مجھے اطلاع ملی کہ پنجاب میل کے نیچے آکر ایک شخص زخمی ہو گیا ہے۔اسے اُسے مطلق نہ پہچانا۔نزدیک آکر اُس نے سلام کیا اور کہا کہ آپ نے شاید ریلوے اسٹیشن پر سے ڈریسنگ کر کے سول ہسپتال بھیجا گیا ہے اور ریل کے قلی مجھے نہیں پہچانا۔میں پچھلے سال والا شیر خان ہوں“۔پانی پت ہی کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ گرمیوں میں عین نصف شب کو اس زخمی کو چار پائی پر ڈال کر شفاء خانہ میں لائے ہیں۔میں نے باہر نکل کر میں حیران رہ گیا۔پوچھا ”شیر خان یہ کیا حال ہے؟ کہنے لگا اُسے دیکھا۔دونوں پنڈلیوں پر سے گاڑی کے پہیے پھر گئے تھے۔ہڈیاں چور قسمت! اُسی وقت مرجاتا تو اچھا تھا۔اس وقت میرے اتنے رفیق تھے۔چور ہوگئی تھیں۔اور دونوں ٹانگیں اس قابل تھیں کہ اُن کو گھٹنوں پر سے کاٹ کر اتنے خدمتگار تھے۔جب ہم گاؤں پہنچے تو انفلوئنزا سے وہ سارے کے سارے الگ کر دیا جائے۔میں نے مضروب کو مارفیا کا ٹیکہ لگا دیا۔اور صبح تک انتظار مر گئے جو ہٹے کٹے اور تندرست تھے۔اور میں جو بیمار تھا اکیلا رہ گیا۔چند روز کرنے کے لئے کہہ دیا۔وہ پورے ہوش میں تھا۔اور اپنی موجودہ مصیبت پر