آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 26 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 26

49 48 (21) کالی کے سامنے یہ کہہ دیتی ہے کہ لوگو! یہ عورت کالی ہے (یعنی بدکار ہے) اور فلاں شخص اس سے ناجائز تعلق رکھتا ہے۔اسی وقت سے سارے علاقہ میں یہ پنجاب کی مغربی سرحد پر بلوچوں کی کئی منداریاں یعنی جاگیریں قائم خبر آگ کی طرح پھیل جاتی ہے کہ فلاں عورت کالی ہو گئی ہے یعنی لوگوں کی ہیں۔وہاں کے رسم ورواج عجیب ہیں۔ایک دفعہ مجسٹریٹ علاقہ نے مجھے لکھا زبان پر اُس کی بد چلنی مشہور ہو گئی ہے۔اس اعلان کے بعد اس کالی عورت کہ ”مہربانی کر کے فلاں جگہ جائیں اور ایک قبر کھود کر مُردہ کی نعش نکال کر کے باپ یا بھائی کا (نہ کہ خاوند کا) یہ فرض ہو جاتا ہے کہ اُسے اپنے ہاتھ سے پوسٹ مارٹم کریں۔کیونکہ ایک عورت ”کالی“ ہو گئی تھی اور یہ مخبری ہوئی ہے کہ قتل کر دیں دوسرا کوئی یہ کام کرنے کا مجاز نہیں۔پھر وہ اُسے جنگل میں لے جا وہ اس قبر میں دفن ہے“۔میں سب انسپکٹر پولیس کی ہمراہی میں اُس مقام پر کر تلوار سے قتل کر دیتے ہیں۔مگر چونکہ یہ فعل زیادہ مکروہ اور بے رحمانہ ہوتا پہنچا وہاں ایک شخص نے نشان دہی کی کہ ”یہ قبر ہے خیر اُسے گھر وایا گیا تو تھا اس لئے عموماً ایسی عورتیں اب یوں کرتی ہیں کہ نہا دھو کر اپنے بہترین بجائے کفن پوش مُردہ کے اس میں سے ایک نوجوان عورت کی نعش نکلی جو لباسِ کپڑے پہن کر جنگل میں خود ہی کسی درخت پر چڑھ کر گلے میں رستہ ڈال کر " عروسی سے آراستہ تھی۔یعنی ریشمی رنگین شلوار۔گوٹہ طلا لگا ہوا گر تہ اور سرخ خود کشی کر لیتی ہیں۔پھر باپ یا بھائی اُس کی نعش اُتار کر بغیر غسل و کفن کے دو پٹہ، بال گندھے ہوئے تھے اور خوب سنکھی چوٹی اور زینت کی ہوئی تھی میں اُنہی کپڑوں میں اُسے دفن کر دیتے ہیں۔اپنے اس فعل سے گویا وہ عورت نے نعش نکلوا کر اُس کا پوسٹ مارٹم کیا تو معلوم ہوا کہ وہ پھانسی لے کر مری اقراری مجرم کی طرح اپنے گناہ کی تصدیق کر دیتی ہے۔اس کے بعد اُس کے ہے۔اور اسی طرح بغیر غسل کے انہی کپڑوں میں دفن کر دی گئی ہے۔نعش باپ یا بھائیوں کا یہ بھی فرض ہے کہ اُس شخص کا پیچھا کریں جس سے اُسے منہم دیکھتے ہی وہاں کے لوگ بول اُٹھے کہ ” کالی ہے ” کالی ہے“۔کیا گیا تھا۔اور عموماً وہ اُسے بھی قتل کر ڈالتے ہیں۔شاذ و نادر وہ شخص علاقہ اپنا کام ختم کر کے میں نے سب انسپکٹر سے پوچھا کہ ”کالی کا کیا چھوڑ کر غیر علاقہ میں بھاگ بھی جایا کرتا ہے ایسا آدمی اگر دس سال کے بعد مطلب ہے اور یہ عورت غسل اور کفن کے بغیر اپنے بہترین کپڑوں میں کیوں واپس آئے تو پھر اُس کا پیچھا نہیں کیا جاتا ورنہ اس سے پہلے جب بھی ملے تو ملبوس ہے؟ اس پر انہوں نے ایک بلوچی رسم کا ذکر یوں سنایا۔و, ہر ملک اور ہر قوم میں نیک چلن عورتیں بھی ہوتی ہیں اور بد چلن لڑکی والوں کا فرض ہے کہ اُسے مارڈالیں ایک دفعہ اسی طرح ایک اور مقدمہ میں جب عورت کو قتل کر کے اُس کے بھائی نے عورت کے یار کو ایک کھیت بھی۔اس علاقہ میں اگر کوئی عورت مخفی طور پر بدچلن ہو جائے تو اُسے نہ کوئی میں جا لیا اور قتل کرنا چاہا تو اُس یار نے اُس بھائی کا مقابلہ کیا اور عورت کا بُرا کہتا ہے نہ اُس پر کوئی گرفت کی جاتی ہے اور مدتیں اسی طرح گزر جاتی ہیں بھائی مارا گیا۔دُنیا کا عام قانون تو یہ ہے کہ اپنے بچاؤ اور ڈیفنس میں جو شخص آخر اتفاقاً کسی دن اس خاندان کی کسی عورت کی کسی دوسرے خاندان کی قاتل کو مار دے اُس پر کوئی گناہ نہیں مگر بلوچی جرگہ کا یہ قانون ہے کہ ایسا عورت سے تکرار یا لڑائی ہو جاتی ہے تو دشمن عورت پکار کر سب گاؤں والوں نالائق شخص جس نے حفاظت خود اختیاری میں اپنی جان کو بچایا تھا اور حملہ آور