آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 21
39 38 ایک بجے تک نئے نئے تماشے دیکھتے رہے۔میرا ملازم چراغ بھی ہمارے ہمراہ چراغ "آج بجائے زیادہ پیسے خرچ کرنے کے چار آنہ والے درجہ ہوتا تھا۔اسے بھی ہم تماشا میں لے جاتے تھے تاکہ وقت بے وقت کسی میں ہم دونوں بیٹھ جائیں گئے“۔ضرورت پر کام آئے۔میں: (سختی سے) ” جا جا کے سو میں ہرگز نہیں جاؤں گا“۔بیچارہ پھر جب ہفتہ ختم ہو گیا تو وہ مکرم عزیز واپس گھر کو تشریف لے گئے اُن کا او پر چلا گیا۔مگر پانچ منٹ کے بعد پھر کوٹھے پر سے آگیا۔مقصد صرف تھیٹر کو بغرض علم دیکھنا تھا۔انہیں رخصت کر کے دوسرے دن سے میں بھی اپنی پڑھائی میں مشغول ہو گیا۔جب رات ہوئی اور آٹھ بجے تو میاں چراغ اب تو صرف دس منٹ تماشا میں رہ گئے ہیں۔میں: ”پھر میں کیا کروں؟ ارے پاگل! میں ہر گز نہیں جاؤں گا جا چراغ دوسری منزل پر سے دھم دھم کرتے اُترے میں لیمپ کے آگے پڑھ رہا اوپر جا کر سورہ۔چراغ چلا تو گیا۔مگر راستہ میں سے ہی پھر اُتر کر آ گیا اور تھا۔فرمانے لگے۔چراغ ”میاں آج ہریش چندر کا تماشا ہے۔میں: ” ہو گا ہم دونوں تو اُسے دیکھ چکے ہیں۔چراغ " آج سنا ہے کہ نئی وردیاں ایکٹروں کی ہوں گی۔میں: ” تماشہ تو وہی ہے“۔چراغ " آج شاید آخری دفعہ دکھایا جائے گا۔بڑے جوش سے کہنے لگا۔”میاں! اچھا آپ نہیں جاتے تو نہ جائیں۔اب تو بہت ہی تھوڑا وقت تماشا میں رہ گیا ہے مجھے تو ایک چونی دے دیں۔میں تو ہو آؤں“۔یہ سن کر مجھے اُس پر سخت غصہ آیا اور نفسی بھی مگر میں نے خطگی کے لہجہ میں اُسے کہا کہ فوراً اُوپر چلا جا۔اور وہ بیچارہ بھی یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ ”نہ آپ جاتے ہیں نہ مجھے جانے دیتے ہیں“۔میں: ”آخری دفعہ ہو یا اول دفعہ اب ہم بہت تماشے دیکھ چکے ہیں نوٹ: جیسے آج کل سینما کے بغیر لوگ رہ نہیں سکتے اُسی طرح اُس جا او پر جا کر سورہ۔یہ سُن کر بیچارہ نا امید ہو کر چلا گیا مگر تھوڑی دیر میں بے زمانہ میں تھیٹر ہوا کرتے تھے۔مگر چونکہ کبھی کبھی آتے تھے۔اس لئے اس قدر قرار ہو کر پھر اُترا۔چراغ ”میاں کو یہ اشتہار تماشا کا“۔میں: ”اسے لے کر کیا کروں؟ تباہی نہ تھی۔مگر اس ظالم کھیل کی چاٹ بڑی سخت ہوتی ہے۔جب میں اوّل مرحوم کے اول لاہور تعلیم کے لئے اسکول میں داخل ہوا تو خواجہ کمال الدین صاحب ہاں رہا کرتا تھا۔اُن کے والد مجھ سے بڑی محبت کرتے تھے۔اُن :چراغ یہ سب تماشوں میں اچھا تماشا ہے اسے ضرور ایک دفعہ اور دنوں میری عمر چودہ سال کی تھی۔ایک دن فرمانے لگے۔”برخوردار! لاہور میں تو آپ آئے ہیں مگر میری ایک نصیحت اپنے پلے باندھ لیں۔اور جو جی چاہے میں: ”ارے بھئی! ہفتہ بھر تو تماشے دیکھ لئے۔بڑا وقت ضائع ہوا کرنا مگر تھیئیٹر نہ دیکھنا ہم کو اس کا تجربہ ہے پہلے تو ہم اپنے پیسے خرچ کرتے رہے۔پھر والدہ سے مانگ مانگ کر گزارا کیا۔پھر اُن کی نقدی کی سند و قیچیاں دیکھنا چاہیے۔ہے۔اب پڑھنا چاہیے۔ہمارا آخری سال ہے کالج کا“۔