آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 15
27 26 ہونے لگا۔صاحب گھبرا کر خیمہ سے باہر نکل آئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ چپڑاسیوں اس گاؤں میں صرف رانڈ عورتیں ہی رہ جائیں گی مرد ایک نہیں رہے گا۔اور گاؤں کے بعض لوگوں میں تو تو میں میں ہو رہی ہے اور باقی اہل دیہہ جو بہتیرا ضلع کی کچہریوں میں رو پیٹ آئے مگر آج حضور نے اپنی آنکھوں پچاس ساٹھ کے قریب تھے ایک لائن باندھ کر فوجی طرز پر کھڑے ہیں۔ہماری حالت دیکھ لی۔اب یا ہم کو نیا گاؤں کسی اور ضلع میں بسانے دیں یا صاحب بولے۔”کیا معاملہ ہے؟ چپڑاسی بولے۔"حضور! یہ زبردستی وقت سب کو گولی مار دیں۔سے پہلے حضور کے سلام کو آگئے ہیں۔اور بہت بیہودگیاں کر رہے ہیں۔جب ڈپٹی کمشنر نے اُن سے وعدہ کیا کہ ”میں گورنمنٹ میں کوشش کروں گا صاحب ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ کہنے لگے کہ ”صاحب! بندوق کہ تمہاری یہ درخواست منظور ہو جائے۔اب گھروں کو جاؤ“ پھر مجھے معلوم نہیں لے کر کل تو شکار کرتا پھرا ہے۔پہلے ہمیں مار دے۔ہمارا شکار کیوں نہیں کرتا۔کہ اس قضیہ کا کیا حشر ہوا۔ہم تو آپ مرنے کے لئے آئے ہیں۔گولی مارگولی۔اس زندگی سے تو مر جانا اچھا“۔صاحب گھبرا سے گئے۔پوچھنے لگے ” آخر تمہارا مطلب کیا ہے؟ ایک دو جو آگے کھڑے تھے وہ صاحب کو گاؤں والوں کی اُس لائن کے پاس لے (11) کرنیل صاحب میں میڈیکل کالج لاہور میں پڑھتا تھا۔غالبا1905ء کی بات ہے کہ گئے۔ان کے وہاں پہنچتے ہی ساری لین والوں نے کرتے اُٹھا کر اپنے پیٹ ہم کئی طلبہ اکٹھے ایک جگہ جمع ہو کر رہنے لگے۔ایک اُن میں سے ”کرنیل ننگے کر دیئے۔صاحب حیران رہ گئے۔تو ان کا نمائندہ بولا ”اب تو دیکھ لیا۔صاحب کے نام سے مشہور تھے۔ایک دفعہ اُن کو کھانا ٹھیک نہ ملنے کی شکایت دیکھ تو بڑا صاحب ہے۔اس گاؤں میں کل یہ پچاس مرد ہیں جو تیرے سامنے پیدا ہوئی تو انہوں نے شام کو کھانا کھانا ہی ہمارے میس (MESS) سے چھوڑ کھڑے ہیں۔اور دوسوعورت گاؤں کے اندر رانڈ بیٹھی ہے۔یعنی بیوہ دیا کچھ دن کے بعد کسی نے اُن سے پوچھا ”کرنیل صاحب! آج کل شام کا صاحب نے پوچھا: ”اور بچے؟“ بڑھا جاٹ بولا کہ ”سات سال کھانا کہاں کھاتے ہو؟ کہنے لگے تمہیں کیا؟ لڑکے بھی آخر لڑ کے ہوتے سے اس گاؤں میں کسی کے ہاں بچہ نہیں ہوا۔اب تو ہی دیکھ لے ان مردوں ہیں۔پتہ لگا ہی لیا کہ یہ ذات شریف روز شام کے قریب کسی اعلی انگریزی کے پیٹ میں دو دو بچے ہیں۔یہ تلیاں ہیں تلیاں۔منہ ان کے جیسے ہوٹل میں چلے جاتے تھے اور وہاں دریافت کرتے کہ ”چائے کا کیا لو گے؟“ برسات کا زرد مینڈک ہیں نا یہ گولی مارنے کے لائق؟ بندوق نکال لا اور ان کو جیسا کہ رواج ہے خانساماں کہہ دیتے تھے کہ ایک روپیہ آپ فرماتے تھے۔مار دے“۔یہ سُن کر وہ سب چلا اٹھے ”گولی مار دے گولی مار دے گولی مار لے آؤ اور کونے کی ایک میز پر بیٹھ جاتے تھے اُن دنوں رواج تھا کہ انگریز ہی اکثر ہوٹلوں میں چائے پیتے تھے ہندوستانی بہت ہی کم ہر چیز چائے کے 66 ڈپٹی کمشنر یہ حالت دیکھ کر سخت متاثر ہوا۔کہا۔کیا مانگتے ہو؟“ وہ ساتھ آتی تھی اور بڑی عزت اور قرینہ کے ساتھ آتی تھی۔یعنی چائے دانی کہنے لگے۔اگر ہم کو سرکار کسی اور ضلع میں زمین نہ دے گی تو ایک دو سال میں بھری ہوئی۔دودھ دانی مصری دان لبالب مکھن دانی جس میں پوری ٹکیہ مکھن کی