آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 108 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 108

213 212 (116) دق کا کیڑا ماسٹر نذیر احمد انداز ایک نہایت ہنس مکھ اور ہر وقت خوش رہنے والے انسان ہیں مگر نہ معلوم کیا بات تھی کچھ دنوں سے نہایت مضمحل اور تھکے تھکے سے رہنے لگے تھے۔خفیف بخار بھی انہیں قریباً روزانہ رات کو چڑھ آتا تھا۔بظاہر اس کی کوئی وجہ معلوم نہ ہوتی تھی۔آخر اپنی بیماری سے انداز صاحب قدرتاً نہایت پریشان رہنے لگے۔بخار روز بروز تیزی اختیار کرتا گیا۔یہاں تک کہ اب اکثر اوقات وہ اسکول بھی نہ آ سکتے اور بستر ہی پر پڑے ہوئے بے چینی کے ساتھ کروٹیں بدلتے رہتے۔جوان آدمی کو چند روز بھی بخار آ جائے تو اس کے انجر پنجر ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔یہی حال انداز صاحب کا ہوا۔شروع شروع میں تو انداز صاحب نے اس بیماری کی قطعاً پرواہ نہ کی اور یہی سمجھا کہ معمولی بخار ہے۔جاتا رہے گا۔اس لئے علاج معالجہ کی طرف توجہ نہ کی مگر جب بخار نے جانے کی بجائے زیادہ حدت اور تیزی اختیار کی تو اب انداز صاحب کو درحقیقت فکر پیدا ہوئی۔چنانچہ ایک دن علی الصبح وہ ایک مقامی حکیم صاحب کے پاس گئے نبض دکھائی، حال بیان کیا۔حکیم صاحب نے کچھ سوالات کئے اور پھر فرمایا کہ تمہیں دق ہے۔تیسرا درجہ شروع ہو گیا ہے۔بیمار ہوتے ہی کیوں نہ آ گئے اب کچھ نہیں ہو سکتا، حکیم صاحب کے اظہارِ مرض سے ماسٹر صاحب تو گویا بن آئی مر گئے۔نہایت مغموم و مضمحل گھر آئے اور دھڑام سے بستر پر گر پڑے اور لگے سوچنے کہ نہ معلوم زندگی کی کتنی گھڑیاں باقی ہیں۔خیر شکر ہے کہ ابھی تک شادی نہیں ہوئی ورنہ بیوی بیچاری زندہ درگور ہوتی۔نتیجہ یہ ہوا کہ بخار زور کا چڑھ آیا اور انداز صاحب بخار کی شدت میں لگے بہکنے۔خیر بخار تو شام تک اتر گیا مگر دق کا خوف ایسا دل پر چھایا کہ کھانا - پینا سب حرام ہو گیا۔یہ قصہ پانی پت کا ہے اور انداز صاحب اس وقت حالی مسلم ہائی اسکول پانی پت میں مدرس تھے۔خیر جب ماسٹر صاحب مدر سے گئے تو وہاں اپنے اور میرے محترم دوست شیخ محمد بدر الاسلام فصلی بی اے۔بیٹی سے جو اس وقت اسی ہائی اسکول میں سیکنڈ ماسٹر تھے، سارا واقعہ بیان کیا۔انہوں نے صلاح دی کہ مقامی شفاخانہ کے اسٹنٹ سرجن کو بھی دکھا لو دیکھیں وہ کیا کہتے ہیں؟ انداز صاحب شفاخانہ پہنچے اور ڈاکٹر صاحب سے مرض کی تمام کیفیت بیان کی مگر یہ نہ کہا کہ اس سے پہلے ایک حکیم صاحب کو بھی دکھا چکا ہوں“ انہوں نے حال غور سے سنا اور پھر کہنے لگے ” مجھے تمہاری جوانی پر رحم آتا ہے مگر یہ کہے بغیر چارہ بھی نہیں کہ تم دق میں مبتلا ہو۔دھرم پور جاؤ اور علاج کراؤ شاید بیچ جاؤ۔“ یہ کہہ کر ڈاکٹر صاحب اور نسخے لکھنے میں مصروف ہو گئے۔حکیم جی نے بھی یہی بتایا اور ڈاکٹر صاحب نے بھی یہی تجویز کیا تو اب ماسٹر صاحب کے درد و الم کی انتہا نہ رہی۔انہیں اپنی موت سامنے نظر آنے لگی اور وہ مرنے کے لئے قریباً تیار ہو کر واپس اسکول آ گئے۔شفاخانہ سے واپس آ کر ماسٹر صاحب نے فضلی صاحب سے کہا ” لیجئے اب کچھ دنوں میں آپ سے ہمیشہ کیلئے جدائی ہو جائے گی۔اس نامراد مرض میں مبتلا ہو کر آج تک کوئی بیجا بھی ہے جو میں بچوں گا ؟“ فضلی صاحب نے اپنے دوست کو بہت تسلی و تشفی دی اور کہنے لگے بہت ممکن ہے کہ تشخیص ٹھیک نہ ہوئی ہو اور حقیقتا تمہیں معمولی بخار ہو جسے غلطی سے دق سمجھ لیا گیا ہے تم ایک کام کرو۔چھٹی لے کر ایک دن کے لئے سونی پت جاؤ۔وہاں کے اسٹنٹ سرجن ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اپنے فن میں