آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 86
169 168 داڑھیوں والے اپنے دین پر یا اپنی قبولیت پر یا اپنے حسب نسب پر فخر کرنے کوشش ان بدمعاشوں کے پکڑنے کی پولیس نے نہ کی تھی۔زیادہ سے زیادہ والے اور متکبر تھے کسی فرقہ میں سچا انکسار نہ تھا مگر ہیجڑے بیچاروں کو کس مجھے یہ نظر آیا کہ جن لوگوں کا نقصان ہوا تھا وہ یا تو گالیاں دے رہے تھے یا بات پر فخر ہو سکتا تھا ؟ وہ عاجزی اور فروتنی لے کر گئے تھے اور ابر رحمت اپنی قسمت کو رو رہے تھے یا صبر سے بیٹھے اپنی گردنوں اور سروں کو سہلا رہے تھے۔غرض ایک مضحکہ خیز ڈراما تھا جو ان دیہاتیوں نے ڈاکہ مار کر ٹرین کے مسافروں کو دکھایا جس سے ناظرین بھی ہنسے اور ڈاکو بھی قہقہے لگاتے چلے گئے۔(100) سانگلہ ہل برساتے آئے۔(99) پگڑیوں پرڈا کہ ایک دفعہ میں لائکپور سے لاہور کی طرف ریل میں سفر کر رہا تھا۔گرمی کا موسم اور قریباً چھ بجے شام کا وقت تھا۔گاڑی دو اسٹیشنوں کے درمیان اپنی سانگلہ ایک قصبہ شیخوپورہ کے ضلع میں واقع ہے۔اس کے اسٹیشن کا پوری تیز رفتاری کے ساتھ جارہی تھی۔سب ڈیوں کی کھڑکیاں کھلی تھی اور لوگوں نام سانگلہ ہل مشہور ہے اور ریل کے ٹائم ٹیبل میں بھی اس کا یہی نام درج کے سر کچھ کچھ کھڑکیوں سے باہر نکلے ہوئے تھے تا کہ ہوا لگتی رہے کہ اتنے میں ہے۔پنجاب کا یہ علاقہ ایسا سخت گرم ہے کہ وہاں گرمیوں میں گویا آگ برستی یکدم کھڑ کھڑ کرتی ہوئی کوئی چیز ٹرین سے رگڑ کھاتی گزر گئی۔میں نے باہر جھانک کر دیکھا کہ چند زمیندار نوجوان لمبے لمبے بانسوں میں بیری کی خاردار ٹہنیاں باندھ کر انہیں ٹرین کی کھڑکیوں کے ساتھ لگا رہے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہے۔ایک دفعہ وہاں کے ہائی اسکول کے لئے اخبارات میں یہ اشتہار نکلا کہ ایک ہیڈ ماسٹر کی ضرورت ہے جو لائق اور تجربہ کار ہو اور انگریزی کا مضمون دو تین درجن پگڑیاں، کلاہ اور ٹوپیاں ان بیری کے کانٹوں میں الجھ کر اور مالکوں خاص طور پر اچھا پڑھا سکتا ہو۔وہ اشتہار کسی انگریزی اخبار میں ایک بنگالی بابو کے سر پر سے اتر کر زمین پر جا پڑیں۔زمینداروں نے پھرتی کے ساتھ اس مال غنیمت کو سمیٹنا شروع کیا اور ہمارے دیکھتے دیکھتے ففرو ہو گئے اور قیمتی دستاروں والے اپنی قسمت کو رونے لگے کیونکہ گاڑی پوری رفتار میں تھی۔کئی بھلے مانس نگے سر رہ گئے اور بہتوں کے چہروں اور گردنوں پر ان چھاپوں کی وجہ سے خراشیں بھی آگئیں۔کئی پگڑیاں مشہدی ریشمی تھیں اور کئی کلاہ دس دس پندرہ پندرہ روپے قیمت کے بھی تھے اور بحیثیت مجموعی تو وہ مال غالباً سینکڑوں روپے کا تھا۔معلوم ہوا کہ کئی دن سے یہ کھیل اس علاقہ میں کھیلا جا رہا تھا مگر ابھی تک اس کو غالباً مذاق یا نوجوانوں کی چھیڑ خانی ہی تصور کیا جاتا تھا۔کیونکہ کوئی کی نظر سے بھی گزرا جو غالباً کلکتہ میں رہتے تھے۔بیچارے ایم۔اے تھے۔غریب تھے اور ساتھ ہی نیم مسئول بھی۔اور لوگوں کی طرح انہوں نے بھی اس جگہ کے لئے عرضی دے دی اور خیال یہ کر لیا کہ نہ صرف گزارہ چل جائے گا بلکہ ہل اسٹیشن (HILL STATION) (یعنی پہاڑی صحت افزا مقام) ہونے کی وجہ سے میری بیماری پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔ادھر یہ ہوا کہ اسکول منتظمین کے پاس جتنی درخواستیں آئی تھیں ان سب میں اس بنگالی کی درخواست بہترین قرار دی گئی کیونکہ اس کی ڈگریاں بھی زیادہ تھیں اور غالباً 1 پل (Hil) کے معنی انگریزی میں پہاڑ یا پہاڑی کے ہیں۔کے