آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 81 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 81

159 158 کو سکھایا بھی یہ جاتا ہے کہ یہ بہت مفید چیز ہے۔ساتھ ہی خود حاملہ عورتوں کو غرض مرمر کے اچھے ہوئے تو انہیں بھی یقین آ گیا کہ واقعی میں نے بڑی بھی اس قسم کی فضول چیزوں کی طرف رغبت ہوا کرتی ہے۔بس پھر کیا تھا کوئی غلطی کی کہ ٹھنڈے پانی سے روزانہ نہاتا رہا شکر ہے کہ جان بچ گئی مگر خدا حد ملتانی مٹی کھانے کی نہیں رہتی۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض عورتوں کا رنگ جانے کتنے لوگ میرے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر اور ٹھنڈا غسل کر کے بیمار اس طرح بکثرت مٹی کھا کھا کر ملتانی کی طرح کا ہی ہو جاتا ہے، اور بجائے ہوئے ہوں گے اور شاید کوئی مر بھی گیا ہو۔چنانچہ اُن کے گھنٹے کا پنڈولم فائدہ کے اُن کو سراسر نقصان ہی پہنچتا ہے۔یہ صرف ایک رواج ہے اور فائدہ دوسری طرف زیادہ چلا گیا اور شفا پاتے ہی پہلے پراپیگنڈے کے بالکل برخلاف اُن کی تبلیغی مساعی شروع ہو گئیں۔اب ہر شخص کو منع کرتے پھرتے کی نسبت اس میں نقصان بہت زیادہ ہے۔(93) عادت کا اثر صحت پر ہیں کہ ”باسی اور ٹھنڈے پانی سے نہانا محض خود کشی ہے۔میں نے خود تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے۔یہ بڑی خطرناک عادت ہے۔اگر ڈبل نمونیہ سے مرنا منظور میڈیکل کالج لاہور میں ہمارے ساتھ یو۔پی کے ایک طالب علم بھی ہو تو بے شک جاڑے میں سرد پانی سے غسل کیجئے وغیرہ وغیرہ۔غرض وہ اُن ڈاکٹری پڑھنے داخل ہوئے۔آدمی تھے دھان پان مگر طرار۔پچھلی ساری عمر تو لوگوں میں سے تھے جو میانہ رو اور معاملہ فہم نہیں ہوتے بلکہ محض جذباتی ہوتے اس طرح گزری تھی کہ آٹھویں دسویں دن گرم پانی سے نہایا کرتے تھے۔ہیں نہ وہ مختلف حالات کے ماتحت مختلف اور مناسب حکم لگاتے ہیں۔نہ موقع لاہور میں آئے تو کسی ڈاکٹر کا لیکچر سنا کہ روزانہ سرد پانی سے نہانا نہایت اور محل دیکھتے ہیں، بلکہ ایک ہی ڈنڈے سے سب کو ہانکنا جانتے ہیں۔ایسے مفید ہے“ بس اسی بات کو پلے باندھ کر لے دوڑے اب ہر شخص کو تبلیغ کر رہے لوگ جب کسی بات کی موافقت میں تبلیغ کرتے ہیں تب بھی وہ خطرناک ہیں کہ ”بھائی روزانہ ٹھنڈے پانی سے نہایا کرو، اس سے صحت بہت اچھی رہتی ہوتے ہیں اور جب مخالف میں بولتے ہیں تب بھی خطرناک ہوتے ہیں۔ہے لوگوں نے کہا کہ آپ خود بھی تو نہایا کریں؟ کہنے لگے ”واقعی مجھے تو ނ (94) آواز کا کھیل غالباً عید کے بعد ر کا میلہ تھا کہ میں امرتسر میں مع چند عزیزوں کے پہلے اس پر کار بند ہونا چاہئے تھا۔غرض انہوں نے اپنی پرانی عادت توڑ کر یکدم روزانہ باسی پانی سے نہانا شروع کر دیا اور وہ بھی علی اصبح اندھیرے منہ۔سردی کا موسم قریب تھا۔دسمبر کے مہینے میں بھی اُن کا یہ عمل رام باغ گیٹ کے پاس میلہ کے تنبوؤں کے قریب سے گزرا۔وہاں ایک تنبو جاری رہا اور ساتھ ہی اُن کی لیکچر بازی سرد پانی سے غسل کے متعلق تیز تر ہو پر لکھا دیکھا کہ ”یہاں انسانی کھوپڑی باتیں کرتی ہے اور سوالوں کا جواب دیتی گئی۔چند دن وہ کالج میں نظر نہ آئے۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ بیمار ہے ٹکٹ شاید ایک آنہ یا دو آنہ کا تھا۔ہم اندر گئے تو دیکھا کہ ایک آدمی ہیں پھر سنا کے نمونیہ ہو گیا ہے۔پھر مشہور ہوا کہ ڈبل نمونیہ ہے جو بھی اُن کی انسان کی کھوپڑی لے کر بیٹھا ہے اور جو سوال کرو کھوپڑی بار یک آواز سے عیادت کو جاتا وہ اُن سے یہی کہتا کہ یہ سرد پانی سے نہانے کا نتیجہ ہے“ اُس کا جواب دیتی ہے۔چنانچہ ہم نے کئی سوال کئے اور اردو فارسی اشعار بھی