آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 61
119 118 کہتے ہیں۔تو خواہ ایک بہن چکوال میں ہو دوسری جہلم میں اور تیسرا بھائی دولمیال میں کے وہ چنے دمہ والے ڈبیوں میں رکھ لیتے ہیں اور اُن کے ایک دو دانے روزانہ حسب ضرورت علاج کے طور پر کھا لیا کرتے ہیں۔یہ لوگ ان کو ” چنا“ فورا بھائی کو تو ہچکی لگ جاتی اور بہنیں رونا اور ہنسنا شروع کر دیتیں۔مدتوں سے اُن کا یہی عمل جاری تھا۔لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے اور اس شخص کی یہ بات سُن کر میں بے ہوش بچہ کی طرف متوجہ ہوا اور یہ کیسی بیماری ہے؟ اس علاقہ کے لوگ ”جادو ٹونہ جن بھوت کے بہت قائل ہیں اور ایسی بیماریوں کو اُن کی طرف ہی منسوب کر دیا کرتے ہیں۔مگر میں نے اُن سے کہہ دیا کہ یہ ہسٹیریا کا مرض ہے اور کچھ نہیں ہاں یہ سبب ایک تشخیص مکمل ہو گئی کہ دادا کا کہنا ٹھیک تھا۔یہ سب دھتورہ کا ہی اثر تھا۔خیر چند کنبہ کے تینوں آدمیوں کے بیمار ہونے کے ہم اسے خاندانی یا فیملی ہسٹیر یا اُس کے معدہ میں ربڑ کی نلکی ڈال کر اُسے اچھی طرح اور بار بار دھویا۔دھوتے دھوتے کھٹ کھٹ کر کے چلانچی میں تین چار چنے دھتورے والے آ پڑے اب گھنٹہ میں بے ہوشی بھی جاتی رہی اور بچہ اچھا ہو گیا مگر بعض بڑھے بھی احمق ہوتے ہیں۔اس کا دادا چنا چنا ہی کہتا رہا۔یہ نہ منہ سے پھوٹا کہ دھتورہ والے چنے ہیں۔اگر دوسرا آدمی آکر ہمیں نہ بتاتا تو دادا سے تو آدھ گھنٹہ سرکھپائی رہی مگر اُس نے اصلی زہر کا نام نہ لیا۔صرف چنا چنا ہی رہتا رہا۔بعض آدمی بھی کیسے بیوقوف ہوتے ہیں۔(63) عجیب فیملی ہسٹیریا میں چکوال میں تھا کہ ایک عجیب بات سننے اور دیکھنے کا اتفاق ہوا ایک گاؤں میں دوسگی بہنیں تھیں اور ایک اُن کا بھائی تھا جب میں نے اُن کے بھائی کو دیکھا تو وہ کوئی تمہیں سال کا جوان تھا۔بہنیں دونوں اُس سے چھوٹی تھیں۔اور بیماری اُن کو یہ تھی کہ ہر روز بلاناغہ دو بجے دن کے خواہ وہ ایک مکان میں ہوں یا الگ الگ ایک بہن تو رونا شروع کر دیتی تھی اور دوسری ہنسنا۔اور بھائی صاحب کو بیچکی لگ جاتی تھی۔مگر شام کے قریب تینوں اچھے ہو جاتے تھے۔اور دن رات کے باقی حصہ میں اپنے سب کام کاج با قاعدہ کیا کرتے تھے۔مگر جہاں ظہر کے وقت گھڑی کی سوئی عین دو پر پہنچی کہہ سکتے ہیں۔(64) ہر ملکے وہر اسے ہرم رسم لاہور کی ملازت کے ایام میں میو ہاسپٹل کے ہر ہاؤس سرجن کی چوتھے دن رات بھر کی ڈیوٹی ہوا کرتی تھی۔بلکہ وہ سوتا بھی البرٹ وکٹر ہاسپٹل یعنی یورپین حصہ کے ایک کمرہ میں تھا۔تاکہ وقت بے وقت نرس اُسے جگا سکے۔ایک دن میری ڈیوٹی تھی کہ ایک میم کو وہاں در دزہ شروع ہو گئے۔نرس مجھے بلا کر لے گئی اُس لڑکی کا پہلا بچہ تھا مگر اسے اپنی نسل سے اتنا عشق تھا کہ ہمارے ملک کی عورتیں تو دردوں کے وقت ہائے وائے کر کے چیختی ہیں مگر وہ یہ الفاظ کہہ رہی تھی۔O Darling Come out, Sonny! Mother is waiting for you I am dying to have a look at your pretty face۔(یعنی اے میرے پیارے باہر نکلو بیٹا! ماں تمہارا انتظار کر رہی ہے میں تو تمہارا پیارا چہرہ دیکھنے کے لئے مر رہی ہوں۔