عالمی فتنۂ تکفیر سے متعلق — Page 5
آبادی کی شرح ۱۲۱ بز سے بڑھ کر ۹۵۰ بریک پہنچ گئی صرف راجستان سرمد 豐 پر واقع پاکستانی اضلاع میں تناسب اس طرح رہا۔بہاولپور ۵۳۴ ، رحیم یار خان ۶۳۲ بز، سکھر ۳۳۶ بز ، تھر یاد که ۶۴۳ از حیدر آباد ۷۶۵ بز ، اور ٹھٹھر ۹۵۰ کا سرمدی اضلاع میں سیمی آبادی میں اضافہ محض اتفاقی امر نہیں ہے بلکہ اس کی پشت پر گہری سوچ اور پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر انتہائی مذموم سازش کار فرما ہے جس کا ثبوت ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران سرحدی علاقہ میں افراتفری بے چینی، جاسوسی اور دشمن کی رہنمائی کے واقعات سے مل جاتا ہے۔پاکستان میں عیسائیت کے پر چار کے لئے جدید طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔چاروں صوبوں کے مرکزی شہروں میں بائبل خط و کتابت اسکول قائم کئے گئے ہیں جن کے ذریعے بائبل کے اسباق اور دوسرا لٹریچر عوام کے گھروں تک پہنچایا جارہا ہے۔ان اسکولوں کے بیشتر اخراجات کی کفالت غیر ملکی ذرائع یا پاکستان میں موجود غیر ملکی فریں اور کمپنیاں کر رہی ہیں۔سابقہ حکومت نے نیشنلائزیشن کی اندھا دھند پالیسی کے تحت بعض مشتری تعلیمی ادارے بھی سرکاری تحویل میں لے لئے تھے مگر موجودہ دورمیں وہ تمام ادارے مشنریوں کو واپس دیئے جاچکے ہیں۔انگریز کا ذہنی غلام نوکر شاہی طبقہ اردو کو قومی زبان بنانے کے وعدوں کی راہ میں حائل ہے اور پاکستان کے مسلمان بھی انگریزی طرز تعلیم کے اداروں ہی کے ذریعے اپنے بچوں کے قلب و ذہن روشن کرنا چاہتے ہیں اور بڑی بڑی سفارشات کے ذریعے اپنے بچوں کو جن معیاری اسکولوں میں داخل کر رہے ہیں وہ سارے کے سارے عیسائی مشنریوں کے مقاصد کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں۔پاکستان کے قریب جزیرہ سیشلز میں ایک طاقتور ریڈیو ٹرانسمیٹر نصب کر دیا گیا ہے جہاں سے روزانہ پانچ گھنٹے تک اردو انگریزی، پنجابی پشتو نوید "