عالمی فتنۂ تکفیر سے متعلق — Page 4
تحت جو ایک عالمی فتنہ تکفیر اٹھ رہا ہے اور سرکاری اور غیر سرکاری علماء و مشائخ دنیا بھر میں طوفان مخالفت بر پا کر کے مسلمانانِ عالم میں انتشار پھیلارہے ہیں، اس کا پورا نفتنہ میجر صادق علیہ الصلوۃ والسلام نے کھینچ کے رکھ دیا تھا اور اُن کے پشت پناہ ظالم اور سفاک حکمرانوں کی خلاف انسانیت اور خلاف اسلام حرکات کا پردہ بھی چاک کر ڈالا، اس سلسلہ میں ملاؤں نے پاکستان سے لے کہ یورپ تک احمدیت کے خلاف افترا پردازیوں اور کذب طرازیوں کی جو ناپاک مہم چلا رکھی ہے اس کے بہت خوفناک اثرات خصوصاً پاکستان میں رونما ہو رہے ہیں۔نئی مسلمان نسل اسلام بلکہ مذہب سے بھی بیزار ہو چلی ہے۔عیسائی پادریوں کی سرگرمیاں غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہیں اور ہر طرف ارتداد کا سیلاب زوروں میں ہے۔مملکتِ خداداد پاکستان ان دنوں کسی طرح پادریوں کی شکار گاہ بنی ہوئی ہے اُس کا کسی قدر اندازہ کراچی کے مشہور ہفت روزہ تکبیر (۲۵- اور جنوری ) کے مندرجہ ذیل چونکا دینے والے انکشافات سے بخوبی ہو سکتا ہے۔لکھا ہے :- ء میں قیام پاکستان کے وقت سیمی آبادی وہ ہزار تھی جو ۱۹۵۱ میں پاکستان کی پہلی مردم شماری کے وقت چار لاکھ ۳۲ ہزار ہوگئی جبکہ ۱۹۸۱ء کی مردم شماری کے مطابق ان کی آبادی تیرہ لاکھ دس ہزار ۴۲۶ ہے۔اس طرح ۳۴ سال میں سیمی آبادی میں ۲۰۲ بزر کے قریب اضافہ ہوا جبکہ اس دوران میں مسلم آبادی میں اضافہ کی شرح ۱۴۹ بر سے بھی کم رہی ہے بسیحی آبادی میں اضافہ کی یہ شرح مسلم اکثریت کے لئے باعث تشویش ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر تشویشناک حقیقت وہ ہے جس کا اظہار درج ذیل اعداد و شمار کر رہے ہیں۔۱۹۵۱ ء سے ۱۹۶۱ ء کے عشرہ کے دوران سیمی آبادی میں مختلف صوبوں میں جس شرح سے اضافہ ہوا اس کی تفصیل یہ ہے۔سندھ ۱۰۸ بر پنجاب ۳۰ بر سرحد ۱۱۰ به بلوچستان ۱۰۸ با اسلام آباد / وفاق کے زیر انتظام علاقہ ۷۳ سبز - اسی عشرہ میں سندھ اور پنجاب کے بھارت سے ملحقہ پاکستانی اضلاع میں سیمی