عالمی فتنۂ تکفیر سے متعلق — Page 16
14 کی اعانت واجب ہے۔مؤلف براہین احمدیہ نے مسلمانوں کی عزت رکھ دکھائی ہے اور مخالفین اسلام سے شرطیں لگا لگا کر تحدی کی ہے۔اور یہ منادی اکثر روئے زمین پر کر دی ہے کہ جس شخص کو اسلام کی حقانیت میں شک ہو وہ ہمارے پاس آئے اور اس کی صداقت دلائل عقلیہ قرآنیہ و معجزات نبوت محمدیہ سے (جس سے وہ اپنے الہامات و خوارق مراد رکھتے ہیں، چشم خود ملاحظہ کر لے “ در ساله اشاعه السنه جلد هفتم نمبر ۶ صفحه ۱۶۹ تا ۳۲۸) اس انقلاب انگیز کتاب کی اشاعت پر جہاں غیر مسلم کیمپ پر کھیل بھی گئی اور ان کے پنڈ توں اور کے پنڈتوں اور پادریوں پر زلزلہ طاری ہو گیا وہاں لدھیانوی علماء (مولوی محمد صاحب، مولوی عبد اللہ صاحب بی عبد العزیز صاحبان نے راہ میں جماعت احمدیہ کے قیام سے بھی پانچ سال قبل فتویٰ جڑ دیا۔چنانچہ لکھتے ہیں :- 勉 چونکہ ہم نے فتوی اسلام میں مرزا مذکور کو دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا جاری کر دیا تھا۔یہ شخص اور ہم عقیدہ اس کے اہل اسلام میں داخل نہیں اور اب بھی ہمارا دعوی ہے کہ یہ شخص اور جو لوگ اس کے عقائد باطلہ کو حق جانتے ہیں شرعاً کا فر ہیں۔خلاصہ مطلب ہماری تحریرات قدیمہ اور جدیدہ کا یہی ہے کہ یہ شخص مرتد ہے اور اہل اسلام کو ایسے شخص سے ارتباط رکھنا حرام ہے۔جیسا کہ ہدایہ وغیرہ کتب نفقہ میں ٹیسٹلہ موجود ہے۔اور جو لوگ اس پر عقیدہ رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہیں " ر سالہ اشاعته السنه از چهارم لغایت دوازدهم مطبوعه شاه) اسی طرح مولوی سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے یہ فتویٰ دیا۔کہ اب مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے دجال کذاب سے احترازہ اختیار کریں اور اس سے دینی معاملات نہ کریں جو اہل اسلام میں باہم ہونے چاہئیں۔نہ اس کی محبت اختیار کریں اور نہ اس کو ابتداء سلام کریں۔اور نہ اس کو دعوت مسنون میں بلاویں اور نہ اس کی دعوت قبول کریں اور نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اگر انہیں اعتقادات و