عالمی فتنۂ تکفیر سے متعلق

by Other Authors

Page 11 of 27

عالمی فتنۂ تکفیر سے متعلق — Page 11

ولایت کے انگریزوں نے روپے کی بہت بڑی مدد کی اور آئندہ کی مدد کے مسلسل وعدوں کا اقرار لے کر مہند دوستان میں داخل ہو کر بڑا تلاطم بر پاکیا۔۔۔تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور پادری اور اس کی جماعت سے کہا کہ عیسی جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح فوت ہو چکا ہے اور جیس یسٹی کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں۔۔۔۔اس ترکیب سے اس نے نصرانیوں کو اتنا تنگ کیا کہ اس کو بیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا۔اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دیدی ر و پاچه من کا بو ترجمہ مولوی اشرف علی صاحب تھانوی) چوہدری فضل حق صاحب مفکر احرار نے تسلیم کیا کہ۔آریہ سماج کے معرض وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جسد بے جان تھا جس میں تبلیغی جس مفقود ہو چکی تھی۔۔۔مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں تو کوئی جماعت تبلیغی امراض کے لئے پیدا نہ ہو سکی۔ہاں ایک دل مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب ہو کہ اُٹھا۔ایک مختصر سی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے بڑھا۔۔۔۔اپنی جماعت میں وہ اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے بلکہ دنیا کی تمام اشاعتی جماعتوں کے لئے نمونہ ہے۔" رفته ارتداد اور پولیٹیکل قلابازیاں طبع دوم ص ۲۳) مشہور صحافی اور مؤرخ مولانا عبد الحلیم شرد مرحوم نے اپنے رسالہ دلگدانه ماه جون ۶۱۹۲۶ ) میں کھلے بندوں اعتراف کیا کہ :- -☑ بہائیت اسلام کے مثانے کو آئی ہے اور احمدیت اسلام کو قوت دینے کے لئے اور اسی کی برکت ہے کہ با وجود چند اختلافات کے احمدی فرقہ اسلام کی سچی اور پر جوش خدمت ادا کرتے ہیں دوسرے مسلمان نہیں کرتے ؟ رسالہ میں پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کو بڑے بڑے القاب دیئے گئے ہیں۔مثلاً موسی، خاندان