عالمی فتنۂ تکفیر سے متعلق

by Other Authors

Page 18 of 27

عالمی فتنۂ تکفیر سے متعلق — Page 18

JA سے نکالے گئے اور جس مسجد میں جمع ہو کر نمازیں پڑھتے تھے اس میں سے بے عزتی کے ساتھ بدر کئے گئے اور جہاں قیصری باغ میں جمع ہو کہ نمازیں پڑھتے تھے وہاں سے حکما رو کے گئے تو نہایت تنگ ہو کہ مرزا قادیانی سے اجازت مانگی کہ مسجد نئی تیار کریں۔تب مرزا نے ان کو کہا کہ صبر کرو ہمیں لوگوں سے صلح کرتا ہوں۔اگر مصلح ہوگئی تو مسجد بنانے کی کچھ حاجت نہیں اور نیز اور بہت قسم کی ذلتیں اٹھائیں معاملہ و برتاؤ مسلمانوں سے بند ہو گیا عورتیں منکوحہ و مخطوبہ بوجہ مرزائیت کے بھینی گئیں۔مردے ان کے بے تجہیز و تکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبائے گئے وغیرہ وغی تو کذاب قادیانی نے یہ اشتہار مصالحت کا دیا۔د اظهار مخادعت مسلمہ قادیانی بجواب اشتهار مصالحت پولس ثانی الملقب بہ كشط الغشاء عن البعاد اهل العمى - ١٣١٩ ) ان نا قابل تردید دستاویزی شہادتوں سے آفتاب نیمروز کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ کا فرگر ملاؤں نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو شروع دعوی ماموریت ہی سے رجبکہ جماعت احمدیہ کی ابھی بنیاد بھی نہ رکھی گئی) کا فرد مرتد ہونے کا فتویٰ دے دیا تھا اور احمدیوں کے جنازہ پڑھنے اور لڑکیوں کو احمدیوں کے عقد نکاح میں دینے سے منع کر دیا اور آج تک پوری شدت سے اس پر کاربند ہیں۔ہم پاکستان سے لے کر یورپ تک کے ملاؤں کو چیلنچ دیتے ہیں کہ وہ مذکورہ بالا فتاوی علماء سے پہلے کا کوئی ایک فتوی پیش کر کے دکھائیں جو حضرت بانی جماعت احمدیہ نے ان کے خلاف دیا ہو۔؟ ؟ مگر یا درکھیں قیامت تک دیکھا نہ سکیں گے۔نہ پنجہ اُٹھے گا نہ تلوار اُن سے یہ بازو مرے آنہ مائے ہوئے ہیں۔سید نا حضرت مسیح موعود نے اپنے زمانہ کے علماء کو مخاطب کرکے فرمایا تھا :۔" پہلے ان لوگوں نے میرے پر کفر کا فتوی تیار کیا اور قریباً دو سو مولوی ه ۲۳ مارچ ۸۸۹ ۲ مطابق ۲۰ رجب ۱۳۰۷ھ جماعت احمدیہ کی تاریخ بنیاد ہے۔