عالمی فتنۂ تکفیر سے متعلق

by Other Authors

Page 19 of 27

عالمی فتنۂ تکفیر سے متعلق — Page 19

19 نے اس پر مہریں لگائیں اور ہمیں کا فر ٹھہرایا گیا۔اور ان فتووں میں یہاں تک تشدد کیا گیا کہ بعض علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ لوگ کفر میں یہود اور نصاری سے بھی بدتر ہیں اور عام طور پر یہ بھی فتوے دئے کہ ان لوگوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کرنا چاہیے۔اور ان لوگوں کے ساتھ سلام اور مصافحہ نہیں کرنا چاہئیے۔اور اُن کے پیچھے نماز درست نہیں کا فر جو ہوئے۔بلکہ چاہیے کہ یہ لوگ مساجد میں داخل نہ ہونے پادیں کیونکہ کافر ہیں مسجدیں ان سے پلید ہو جاتی ہیں۔اور اگر داخل ہو جائیں تو مسجد کو دھوڈالنا چاہئیے۔اور ان کا مال پرانا درست ہے اور یہ لوگ واجب القتل ہیں پھر اس جھوٹ کو تو دیکھو کہ ہمارے ذقتہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے ہمیں کروڈ مسلمان اور کلمہ گو کو کافر ٹھہرایا۔حالانکہ ہماری طرف سے کوئی سبقت نہیں ہوئی۔خود ہی ان کے علماء نے ہم پر کفر کے فتوے لکھے اور تمام پنجاب اور ہندوستان میں شور ڈالا کہ یہ لوگ کافر ہیں اور نادان لوگ ان فتووں سے ایسے ہم سے تنفر ہو گئے کہ ہم سے سیدھے منہ سے کوئی نرم بات کرنا بھی ان کے نزدیک گناہ ہو گیا۔کیا کوئی مولوی یا کوئی اور مخالف یا سجادہ نشین یہ ثبوت دے سکتا ہے کہ پہلے ہم نے ان لوگوں کو کا فر ٹھہرایا تھا۔اگر کوئی ایسا کا غذ یا اشتہار یا رسالہ ہماری طرف سے ان لوگوں کے فتوئے کفر سے پہلے شائع ہوا ہے جس میں ہم نے مخالف مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا ہو تو وہ پیش کریں ورنہ خود سوچ لیں کہ یہ کس قدر خیانت ہے کہ کا فر تو شہر میں آپ اور پھر ہم پر یہ الزام لگادیں کہ گویا ہم نے تمام مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا ہے۔اس قدر خیانت اور جھوٹ اور خلاف واقعہ تہمت کس قدر دل آزار ہے (حقیقۃ الوحی ص ۱۲۲ - ۱۲۳ )۔اس تفصیل سے تین باتیں بالکل نمایاں ہو کر سامنے آجاتی ہیں۔اوّل یہ کہ عہد حاضر میں جماعت احمدیہ سے بڑھ کر کوئی مظلوم جماعت نہیں ہے۔فتنہ پرور