آخری اتمام حُجّت — Page 2
مولوی ثناء اللہ صاحب کا مباہلہ پر آمادگی کا اظلماً ره اس کے بعد شاہ میں ۲۹ ۳۰۱ اکتوبر شاہ کو مولانا سرور شاہ صاحب اور مولانا ثناء اللہ صاحب کے مابین موضع مد ضلع امرتسر میں مناظرہ ہوا جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب اعجاز احمدی میں فرمایا اور اس میں یہ تحریر فرمایا کہ :- میں نے سنا ہے بلکہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کی دستخطی تحریر میں نے دیکھی ہے جس میں درخواست کرتا ہے کہ میں اس طور کے فیصلہ کے لیے بدل خواہشمند ہوں کہ فریقین یعنی میں اور وہ یہ دعا کریں کہ جو شخص ہم دونو میں سے جھوٹا ہو وہ پہنچے کی زندگی میں ہی مر جائے۔اور نیز یہ بھی خواہش ظاہر کی ہے وہ اعجاز مسیح کی مانند کتاب تیار کرے جو ایسی ہی فصیح بلیغ ہو اور انہیں مقاصد پر مشتمل ہو ، سو اگر مولوی ثناء اللہ صاحب نے خواہشیں دل سے ظاہر کی ہیں ، نفاق کے طور پر نہیں تو اس سے بہتر کیا ہے اور وہ اس امت پر اس تفرقہ کے زمانہ میں بہت ہی احسان کریں گے کہ وہ مرد میدان بن کر ان دونوں ذریعوں سے حق و باطل کا فیصلہ کر لیں گے یہ تو انہوں نے اچھی تجویز نکالی اب اس پر قائم رہے تو بات ہے “ لاعجاز احمدی ما پھر آگے اعجاز احمدی من پر تحریر فرمایا:۔اگر اس پر وہ مستند ہوئے کہ کاذب صادقی کے پہلے مر جائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے؟ مولوی ثناء اللہ صاحب کے مباہلہ سے فرار مولوی ثناء اللہ صاحب نے جب دیکھں کہ حضرت مرزا صاحب مباہلہ کے لیے تیار ہیں تو وہ انہوں نے حضرت مرزا صاحب کے بالمقابل مباہلہ سے فرار اختیار کر لیا، اور اپنی کتاب الہامات مرزا میں یہ لکھ دیا کہ :- چونکہ یہ خاکسار نہ واقع ہیں اور نہ آپ کی طرح نبی یا رسول، ابن اللہ یا الہامی ہے اس لیے ایسے مقابلہ کی جرأت نہیں کر سکتا۔میں افسوس کرتا ہوں کہ مجھے ان باتوں پر جرات نہیں۔" ر الهامات مرزا ض طبع دوم ) نگر الہامات مرز " میں مولوی صاحب اپنی اس درخواست مباہلہ کا انکار نہیں کر سکے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام