آخری اتمام حُجّت — Page 3
نے اعجاز احمدی میں ذکر کر کے لکھا تھا کہ :۔" اگر اس پر دستند ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مر جائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے۔غرض جب مولوی ثناء اللہ صاحب نے مباہلہ کی جرأت نہ رکھنے کا یہ عذر پیش کر دیا کہ وہ نبی اور رسول اور الہامی نہیں نہ اس کے مدعی تو چونکہ ان کی طرف سے یہ عذر سراسر نامناسب تھا کیونکہ خدا تعالیٰ نے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ نجران کے عیسائی وفد کو دعوت مباہلہ دلائی تھی جن میں سے کوئی بھی نبی اور رسول اور الہامی ہونے کا مدعی نہیں تھا اس لیے ان کے اس فرار سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس طرح صداقت دعوئی ظاہر ہو گئی ہے جس طرح نجران کے عیسائی وفد کے مباہلہ سے فرار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت دعوئی ظاہر ہوگئی تھی۔مولوی ثناء اللہ صاحب کے اس عذر بے جا پر دو شخصوں علی احمد صاحب کلرک میانمبر اور ثناء اللہ صاحب کلرک میں نمبر نے یکے بعد دیگر ے مولوی ثناءاللہ صاحب کو چٹھیاں لکھیں اور مباہلہ کرنے پر مجبور کیا، چنانچہ پہلے شخص کی چٹھی مولوی ثناء اللہ صاحب نے ۲۵ مٹی کے اخبار اہل حدیث کے صہ پر اور دوسرے صاحب کی چٹھی اخبار اہل حدیث ۲۲ جون شاہ صے پر درج کی، انکے دباؤ سے مجبور ہو کر مولوی نشاء اللہ صاحب نے لکھدیا کہ :- البته آیت ثانیه رفَقُلْ تَعَالَو نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَابْنَا وَ كُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وانْفُسَنَا وَانْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَه رباره ۳ ) سلام را پر عمل کرنے کو ہم تیار ہیں۔میں اب بھی ایسے مباہلہ کے لیے تیار ہوں جو آیت مرقوعہ سے ثابت ہوتا ہے؟ ) اخبار اہل حدیث ۲۲ جون شدم مولوی ثناء اللہ صاحب کےساتھ آخری فیصدیدرایڈعامباہلہ کی تقریب اور اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کتاب حقیقۃ الوحی لکھنے میں مصروف تھے جس میں آپ اپنی پیشگوئیاں لکھ رہے تھے اور آپ کا ارادہ تھا کہ مباہلہ اس کتاب کو مولوی ثناء اللہ صاحب کے پڑھ لینے کے بعد ہو، مگر اسی دوران مولوی شاء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ والے ۱۵ اپریل شاہ کے اشتہار شائع کیا جانے کی تقریب یوں پیدا ہو گئی کہ فروری عشاء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ قادیان کے آریہ اور ہم لکھا اور اس میں آپ نے دو آریوں کو اپنی ان پیشگویوں کے متعلق جن کے وہ گواہ تھے اپنے بالمقابل قسم کھانے کی دعوت دی اور لکھا کہ :۔" میں قسم کی کر کہتا ہوں کہ یہ باتیں پہچ ہیں اگر یہ ٹھوٹ ہیں تو خدا ایک سال کے اندر میرے پر اور