آخری اتمام حُجّت — Page 31
ذیل حدیت امر کستر شار ۲۲ - اپریل شده زندگی میں ہی دنیا سے آہ نے باکھی اور نبات سخت آفت میں جو موت کو باہر چہارم۔آپ نے بڑی چالاکی یکی یکہ یہ دیکہا کہ ان دنوں طاعون کی ہور مبتلا کر۔اسے میری پیار سے مالک توالی ہی کر۔آمین ثم آمین۔دینا شدت ہے خصو صا صوبہ پنجاب میں سب صوبوں سے زیادہ ہی پتھر میں افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين - آمين پنجا ہے دارالسلطنت لا ہور میں جو رستے سے بہت قریب ہے۔کیفیت ا آخر روایت سے الماس ہوکہ وہ میر اس تمام مضمون کواپنے پہ ہی یہ ہے کہ مردوں کا اٹھا نامشکل ہورہا ہے ایسی صورت میں ہر ایک شخص ما عوان دیں اور جو جا ہیں اسکے نیچے لکھدیں اب فیصلہ خدا کو ہاتھ میں ہے ؟ سے مخالف ہو اور کوئی آج اگر ہے تو کل کا اختیار نہیں اور دیکہنے میں بھی ایسا ہی آیا ہے کہ وہ ہے تو یہ نہیں۔یہ ہے تو وہ نہیں ایسے وقت میں راقم الاهم مرا اعلام المسیح موعود وافاه اش عاید مرقومه - اپریل طاعون پسینہ و غیر کی موت کی دہا محضر من بیب کی دوا کی طرح ست دارم یکم ربیع الاول شلتها بجری۔ہے۔جب اُس نے دیکھا کہ جہاز ٹوبہ لگا ہے تو بلند آواز سے کہدیا کہ جواب :۔اس ساری لی چھڑی تھری کا جوشیطان کی آفت سے بھی زیادہ مجھے الہام ہوا ہے۔جہاز ہیں ڈوب گیا۔جس سے اوسکی یہ غرض تھی کہ طویل ہے۔خلاصہ یہ ہو کہ کرشن بھی دعا کرتے ہیں کہ بیٹا سچے سے پہلے اگر ڈھب گیا تو سب مر جائیں گے۔کو کر ڈوب گیا تو سب مر جائیں گے۔کون میری کذب پر مجھے الزام دیگا اور طاعون مینا ایسے مر جائے۔اس جواب میں آپ کو کئی طرح سے دجیل اگر بیچ رہا تو ساری معتقد ہو جائیں گے۔یونہی چال تمہاری ہے کہ اگر۔مخالف مرگیا تو تمہاری چاندی ہے۔اور اگر خود بدولت خس کم جہاں اور فریبے کام لیا ہے داول یہ کہ اس کی منظوری مجہ سے نہیں لی اور بغیر میری منظوری پاک ہو گئے توکوئی قریب لات مارنے آئیگا ؟ کے اس کو شائع کر دیا پنجم، تمہاری یہ دعا کسی صورت میں فریال گن نہیں ہو سکتی کیونکہ مسلمان وقتی یکہ اس مضمون کو بوالہام کے شائع نہیں کیا کہ ہ ہ ہ ہ ہ کی تو امونی موت کو موجب حدیث شریف کے ایک قسمک شہادت جانتی ہیں الہامہ یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر ہے اس کا نتیجہ ی پر وہ کیوں تمہاری دعاء پر بھروسہ کر کے داعمون زدہ کو کا زب جائینگے ؟ ہوگا۔کہ اگرتم مرگ تو تمہاری دام افتاده در خس کے جہاں پاک کہکر ہشتم، آپ نے ایک چالاکی یہ کی کہ پہلا تو صرف طاعون یا مہینہ سورتی یہ عذر کرینگی کہ حضرت صاحب یہ الہام نہیں بتا بلکہ محض دعا تھی۔یہ کی دعا کی مگر اخر میں اگر کبھی کہدیا کہ یاکسی اور نہائت سخت انت بھی کہ دینگا کہ دعائیں تو بہت سے نبیوں کی بھی قبول نہیں ہوئی کہ میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کہی۔اس تعمیم کرنے سے آپکی غرض وہی ہے حضرت نوح کی دعا قبوان ہوئی بلکہ وہ آپ ہی کی دعاؤں میں بہت سی جو آتھم کے معاملہ میں آپنے کی ہرنی تھی کہ موت کی پیش گوئی جب جھوٹی مثالیں دیا۔ینگو کہ قبول نہیں ہوئیں۔آپنے تین سال کے اندھیا نکلی توبات بنائی کہ چونکہ وہ رستے سے فیروز پور تک چلا گیا اور تھی ہو جانے کی دعا کی تھی جو قبول نہ ہوئی حالانکہ آپنے کہا تھا کہ اگریہ قبول رہا۔پس یہی سوچ کے برابر ہے چہ خوش ہے نہ ہوئی تو میں اپنے آپ کو کافر مردود به کذاب اور وقال مجھو نکا جنگی من خوب میشناسم پیران پارسا را تفصیل گذشتہ نمبر میں ہو چکی ہے۔رہتی آپنے پہلے اپنے گذشتہ مضمون مندرجہ المجیدی 19 اپریل کوفته دستومی ہے کہ مرا مقابل تو آپ سے ہے اگر میں مرگیا تو ہری مرنے سے نمبر میں لکھا تھا کہ خدا کے رسول چونکہ رحیم کہ ہم ہوتے ہیں اور ان کی اور لوگوں پر کیا تبت ہو سکتی ہے جبکہ بقول آپکے مولوی غلام شکر ہر وقت یہی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شخص پلاکت اور ہیبت میں ٹیری تصویر مریم مولوی اسمیں ملیکا می روم اور رواروی میکن مگر اب کیوں آپ میری ہلاکت کی دعا کرتے ہیں۔اسی طرح سے مر گئے ہیں تو کیا لوگوں نے آپکو سچا مان لیا ہے ؟ ٹھیک مرزائی و ابتدا سکتی ہو یہ تہافت اور مخالف کیوں ہے ایک ہی ہفتہ اسی طرح اگر یہ واقعہ بھی ہو گیا تو کیا نتیجہ ؟ میں اتنا اختلاف کیوں ہوا وسیع ہو تو جلوا في اختلافا كثيرا۔نے ان تینوں کے متعلق آئندہ کسی بچہ یں ہم ایک مفصل مضمون لکھینگے میں آپکا اور آپکے امانت کی بنیا د بشری گرانا الله و السلام