آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 32 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 32

اہل حدیث امرت فیصلہ ہیں ۲۶ اپریل نشده مختصر تاکہ میں تمہاری درخواست کے مطابق حلف اٹھان کو طیار ہوں یا پردہ گنہگار او را اریک کی بھی کہا کہ یہ مگرمجھے ڈر ہو کہ کہیں گر تم اس حلف کے نتیجے سے مجھے اطلاع دو۔اور یہ تحریر تمہاری می تیرو گھر بہادر جنین شن حکومت کہن کسی طرح بھی بیچا نہیں مجہ ناراض نہیں اور نہ کوئی دانا اسکو منظور کر سکتا ہے۔ہوکر میرا ڈنڈا کونٹ مین چھین لین اور نہ تمہیں موجودہ وقت میں منحاس ثمانی مرزائیو انتمہارا گرد اور تم کہا کرتے ہو کہ مرزا صاحب منہاج نبوت کہتا کچھہ غیر تناسب نہیں۔فاضل شاہ سلیم نہیں تو کر فضلت میں رہا یں کسی نبی نے بھی اس طرح اپنے مخالفوں کو اس طریق سے اور رقم کی شہ اب بیوی نے مدہوش کر کھا ہے۔تیری ہندی رعایا سخت تکلیف همه شراب۔استدار سن کرنے کی طرف بلایا ہے ؟ بتاؤ تو انعام او ور نہ منہاج نبوت کا نام میں ہے۔یہ پوسٹ بھر گوروں نے اپنی سفید کرتاہ اندیشی ہو انبیا سلاد لیتے ہوئو شرم کرو - شیم - شرم - شیم۔ینگ سر رکھا ہو کہ وہ تنگ آمد بجنگ آمد کے سٹلر کو سیکینو کی کوشش میں میز تیں امید کرتا ہوں کہ مرزا صاحب اپنے ہاتھوں کو حکم دیں گے۔کہانی ان ک مجبور ای سی دیا جاتا ہے۔ہر اینٹ کا جواب پتھر کیونکہ اتواز انہاروں میں میرا جو اب کیعنی تمام نقل کر دیں ؟ کے بھوت باتوں سے نہیں سویا ہے بولتے " اور یہ نشانہ واقعی معذرت : ہم نے ناظرین سے وعدہ کیا تا کہ کرشن جی کی خطا نہیں ہوا۔بلکہ یگر گردوں کو ید ا کرا کے لئے بالکل درست ثابت الہامات اور پیٹت گرد ہاری لال لاہوری جوری کی می گویوں کا ہر منے مقابل ہوا۔اور یہی پوچھے تو ان جیسا بہتر اور ے بھی نہیں شاہ سنو اور محمد کیا کریں گے مگر کرشن جی کے دیگر مضامین کی وجہ سے وہ مقابلہ کہا ہوا سے سنو! ہر طرف سے لمتوی رہا۔آئندہ انشاء اللہ نکلی گا ؟ + فلم ظلم ظلم ! کی صدائیں آرہی ہیں۔مگر معلوم نہیں کہ توکس پھر سر پر لینی نیند سود معلوم تقی : 19 اپریل کے بچہ میں صفحہ اول کا کم سطرہ نہیں ہے۔کیا تو چاہتاہے کہ تیراکی ناسا میرا یہ نہ تھے کوئی بری خبر جو یہ عبارت ہے یہ کہ ہم اپنے وطن کے زممار ہیں اس میں وطن منانے پر مجبور ہو۔غافل شاہ ، میں نے سہتہو جن الفاظ سر یاد کیا ہو کی بجاؤ تفس۔پرہنا چاہئے۔وطن خلط ہے۔شاند گستاخی ہو۔اور انہیں سخت خیال کیا جاری مگر کیا تو فاضل نہیں کر مجھے اپنی اتنی بڑی سلطنت کی کچھ خبر نہیں کیا تجھے لاپراہ کہنا غلطی مندتون میں چینی اور گوری کی خاموشی ہے کہ تو اپنی سے وفا جار دور جان نشار بنایا کرتا راض و نا خوش کرنا در خموشی معنی دارد که در گفتن سے آئما ہے تو ظالم سے جب تیری رعایا پر ظلم ہوتا ہے چاہے وہ لارڈ منٹو سے ہو یا سر لویز سے یا ان کے شاگرد رشید عالیجنا ہے ٹرانٹ تھا، بہادر آجکل ہندوستان کی مندی یونٹی میں جو بے چینی اور خود داری کو خیالات کی بھی آزمائی کانتیجہ اور روسی را نگاری کر تیری وفا دار یاس و ناچار آتی ہیں۔ان کو دیکر ایک میری یہ رائم قائم کرسکتا ہو کہ ہے ابتدا دمشق ہوتا ہے کیا * آگے آگے دیکھئے ہوتا ہو گیا آگے ھ یاد رہی ہے۔میں حیران ہوں تجھے کس طرح فرم گہ میلوں پر آرام سے میند ٹ جاتی ہے جب تیری کو کیا بلکہ کر ولی غریب رها یا سردی کو ٹھٹھر کو ہندوؤں کے اخبار گورنٹ بند کر حق میں تواریخ اور فقہ ظاہر کرتے ہیں فاقہ کشی سے جان تو رو رہی ہو۔تو کیا ہتھ کابنا ہوا ہے کہ ان دلبند آپ نے تھے۔مگر ناظرین یہ تنگ ویران ہونگے کہ اب اس فقہ کا تھرائیٹر ترقی کرکے سے جد کبھی رعایا کے سینوں کو چیرتی ہوئی ملتی ہیں۔بچھو کھلے عادل شاہا شاہ معظم تک بھی بن گیا ہے چنانچہ ایک اخبار کوچند ایک فقر و یم نقل کر انہیں یا کہ اگر تو نے ان آہوں سے بچنے کی کوشش نیکی تو یہ رنگ لائو نجابی شیر شنیب کا کھلا پٹھا کا کہا مجھے افسوس ہو کہ مینو تمہیں قافلہ بغیر نہ رہیں گی ؟ انی ہم کے نام سے خطاب کی بہترین کہ جو وہ اسی رح کے بیان سے بھی تیز تیز تر ہیں نکال کر بھی ہم یہ ہیں اور اسطرح نیست مینیجر نال مدینه است