آخری اتمام حُجّت — Page 1
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے ذریعہ مولوی ثناء اللہ صاحب دوسرے تمام مخالفین پیر آخری اتمام محبت حضرت مرزا غلام احمد قادیانی میں موعود علی اسلام نے اپنی کتاب انجام آتھم میں علماء اور ۵۲ گدی نشین مشائخ کو ان کے نام بنام اپنے الہامات کے بارہ میں دعوت مباہلہ دی اور دعائے مباہلہ تحریرفرمانے کے بعد آپ نے بڑے زور دار الفاظ میں لکھا کہ :- میں یہ شرط کرتا ہوں کہ میری دعا کا اثر اس صورت میں سمجھا جائے کہ جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میں بالمقابل آویں ایک سال تک ان بلاؤں میں سے کسی بلا میں مبتلا ہو جائیں اگر ایک بھی باقی رہا تومیں اپنے تئیں کاذب سمجھوں گا اگر چہ وہ ہزار ہوں یا دوہزار اور پھر ان کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا۔) انجام آنهم مت ) پھر اس کے آگے بطور شرط مباہلہ یہ بھی لکھا کہ :- میرے مباہلہ میں یہ شرط ہے کہ اشخاص مندرجہ ذیل میں سے کم از کم دس آدمی حاضر ہوں اس سے کم نہ ہوں اور میں قدیر ہوں میری خوشی اور مراد ہے۔کیونکہ بہتوں پر عذاب الہی کا محیط ہو جانا ایک ایسا کھلا کھلا نشان ہے جو کسی پر مشتبہ نہیں رہ سکتا ) انجام آتھم م ) اس کے آگے ص۶۹ تا ۷۲ تک دی گئی فہرست میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کا نام گیارھویں نمبر پر تھا۔مگر افسوس ہے کہ ان علماء اور گدی نشین مشائخ میں سے دس آدمی بھی آپ کے الہامات کے بارہ میں آپ کے سامنتھے مباہلہ کے لیے تیار نہ ہوئے ناحق وباطل میں خدا کا آخری فیصلہ بصورت مباہلہ صادر ہو جاتا اور عوام الناس کو اس خدائی فیصلہ سے واضح طور پر اور آسانی سے پتہ لگ جاتا کہ حق کسی طرف ہے۔یہ چیلنج مباہلہ کتاب انجام آتھم میں کو دیا گیا تھا۔چونکہ اس میں ہلہ میں ہی آدمی بھی مخالفوں کی طرف سے مباہلہ کے لیے تیار نہ ہوئے اس لیے مباہلہ وقوع میں نہ آسکا۔