آخری اتمام حُجّت — Page 40
۱۹ اپریل شاد بلو الحدیث امرتسر کو ساتھ لائم وہی میدان عید گاہ امرت سر طیار ہے جہاں تم ایک ہے اور وہ اس کو اول سے آخر تک بغور پڑھنے اس کتاب کے ساتھ میں صوفی عبد احق غزنوی سے مباہلہ کر کے آسمانی ذلت اٹھا چکی ہو ایک اشتہار بھی ہماری طرف سے شائع ہوگا جس میں ہم یہ ظاہر کر دیگر امر کر میں نہیں تو بارہ میں آؤ سب کے سامنے کارروائی ہوگی کہ ہنی مولوی ثناء اللہ کے چلینج مباہل کو منظور کر لیا ہے اور ہم اول گر اس کے نتیجہ کی تفصیل اور تشریح کرشن بھی سے پہلو کر دو اور انہیں قسم کھاتے ہیں کہ وہ تمام الہامات جو اس کتاب میں ہم نے درج کئے ہمارے سامنے لاؤ جس نے ہمیں رسالہ انجام آتہم میں مباہلہ کے لئو ہیں وہ خدا کی طرف سے نہیں اور اگر یہ ہمارا افترا ہے تو لعنت اللہ علی دعوت دی ہوئی ہے کیونکہ جب تک پیغمبر جی سے فیصلہ نہو سب الكاذبان ایسا ہی مولوی ثناء اللہ بھی اس اشتہا را در کتاب کے است کے لئو کافی نہیں ہوسکتا؟ پڑہنے کے بعد بذریعہ ایک چینی موٹے انتہا کے قسم کو ساتھ یہ کہیں اس مضمون میں سے لیے یا طعن و تشنیع چھوڑ کر جس کے جواب کی کہ میں نے اس کتاب کو اول سے آخر تک بطور پڑھ لیتا ہے اس میں ضرورت نہیں۔اصل مطلب کی بات صرف یہ ہے کہ مولوی ثناء اللہ جو الہامات ہیں وہ خدا کی طرف سے نہیں اور مرزا غلام محمد کا اپنا حضرت مسیح موعود مرزا صاحب کی تکذیب پر ایسا یقین اور ایمان افترا ہے اور اگر میں ایسا کہنے میں پھوٹتا ہوں تو لعنت اللہ علی رکھتے ہیں کہ وہ اس پر مضا تعالی کی قسم کھانے کو طیار ہیں اور اس الكاذب این اور اسکے ساتھ اپنے واسطی اور جو کچھ عذاب وہ خدا سے مباہلہ کے واسطے حضرت مرزا صاحب کو بلاتے ہیں اور حضرت مرزا مانگنا چاہیں مانگ لیں ان اشتہار اللہ کے شائع ہو جانے کے بعد صاحب سے پوچھتے ہیں کہ اس مبالدہ کا نتیجہ کیا ہوگا اور اس اللہ تعالیٰ خود ہی فیصلہ کر دیگا اور صادق اور کا ذب میں فرق کر کے مباہلہ کیو اسلی امرت ، یا بٹالہ میں طرفین کا جمع ہونا تجویز کرتے ہیں۔دکھلا دیگا ہاں اتنی بات ہم اس پر اور بڑھا دیتے ہیں کہ ہم خدا سے اس مضمون کے جواب میں میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو بشار نیا دیتا دعا کریں گے کہ یہ عذاب جو جھوٹے پر پڑے وہ اس طرز کا ہو کہ اس ہوں کہ حضرت مرزا صاحب نے ان کے اس چلینج کو منظور کر لیا ؟ میں کسی انسانی ہاتھ کا دخل نہ ہو۔باقی رہا یہ امر کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا وہ بینک قسم کھا کر بیان کریں کہ شخص اپنے دعوے میں چھوٹا ہو مولوی ثناء اللہ کو واقف قرآن ہو کر امیں امر کے دریافت کرنے کی اور بیشک سلیمات کہیں کہ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو لعنت ضرور دکھتی۔مباہلہ کی بنیاد جس آیت قرآنی پر ہے اس ہیں تو اللہ علی الکاذبین اور اس کے علاوہ ان کو اختیار ہو کہ اپنی جھوٹی صرف لعنت اللہ علی الکاذبین ہے اور اس جگہ خدا تعالی نے ہونے کی صورت میں ہلاکت وغیرہ کے جو مذاب اپنے لئے چاہیں خدا لعنت کو قائم مقام ان تمام مذاہوں اور وہانوں کا رکھا ہے جانیک سے مانگیں لیکن خدا کے رسول چونکہ رحیم و کریم ہوتے ہیں اور نکی ہر وقت صادق کی تکذیب میں گذین کے لائق حال ہوتے ہیں اور ہم ایمان یہی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شخص ہلاکت اور مصیبت میں نہ پڑ ہے رکھتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ کے متعلق یہی زمان بر وقت امتحانان اسواسطے باوجود اس قدر شوخیوں اور دل آزاریوں کے جو نار شد میں سے کسی کو خود دیکھ لیا۔ہاں یہ ضروری ہے کہ مباہلہ کی تاثیر سے ہمیشہ ظہور میں آتی میں حضرت اقدس نے پھر بھی سپر رحم کر کے کاذب کے لئے ایک ایسے رنگ میں ظاہر ہو کہ جس کو دیکھ کر ایک فرمایا ہے کہ یہ مباہلہ چند روز کے بعد ہو جبکہ ہماری کتاب حقیقہ اومی زما نہ بول اٹھے کہ یہ ایک صادق کی تکذیب کی سزا ہے معمولی تخلیقات آپ کر شائع ہو جاتے اور امید ہے کہ میں پچیس روز تک انشاء الله یا مکروہات کا لاحق ہو جانا فی الواقع تاثیر بابا نہیں ہو سیتی میری کتاب شائع ہو جا دیگی اس کتاب میں ہر ختم کے دلائل سنت کے شنار جو چاہے اپنے لئے اپنی کتب کی سزا میں جناب تجویز کریٹ کے ثبوت میں خلاصہ بیان کئے گئے ہیں اور دو سو سے سوا اس یکن انسانی کسی کا حکم نہیں وہ اپنے معالی آپ سمجتا ہے۔میں نشانات بھی ہو گئے ہیں۔کتاب مولوی ثناء اللہ کے بھید کیا گی انسانی گرانٹ کسی مجرم کو سزا دینے میں مجوم کے منشار کا لحاظ ہیں مكو الاسلام پر چار بار کل جواب تقریب الاسلام در سال این مهم تر اسلام کا اسلام امامان داد را با این در اینجا اور این امرت سر ۴۰