آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 36 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 36

نمازار بعم: توں کا مقابلہ قیمت اہل حدیث امرسته فتاوی ہوتا ہے۔کہ مالی احکام بالداروں ہی پر ہوتے ہیں والعلم عند الله ن : انگریزی لفٹ میں زکرتا ہے یا نہیں معترض کہتی ہیں کی س نمبر ۱۸۵ اگر کوئی بن سلام کسی کا رخ کر دی خیر کا شد بالا سونا چاندی نہیں ہے لہذا کوہ نہیں ہے اور دوسر کتنے روپیہ ہوئے۔جا ہے زکوۃ دینا ہوگا۔اور کتنا روپیہ دنیا ہوگا۔شروع کردیا ہیں۔تو اس کاکیا حکم ہے ؟ س کا جو قرآن شریف فارسی اردو انگریزی میں کہا جائی ج نمر: - نوٹ حقیقت میں قرض کی رسید و گویا کار درست ہیں کام کہتی ہے یا نہیں او سپر احکام اپنی مترتب ہوتے ہیں یا نہیں؟ اور نوٹ اُس قرض کی رسید ہوتی ہے۔سو ایسی رسید کہ ہر ایک جگہ دکھا کر س سمنت بار کو ان سمان دنیامیں ہیں یا تمام آسمانوںمیں منیان سر پہ وصول کر سکتا ہے۔کسی مسیح کی دیر نہیں اور یہ سنا ہے کہ جو قرض کسی ایسے شخص ہو ہو۔جو اقراری ہو۔خصوصا ہر وقت دینے پر طیار ہو یہ انس۔سوالوں کے جواب سے بذریعہ اخبار سرفراز فرماویں کام شار : بیٹنگ کردید و الاسلام اعلی ولایعلی اسلامی رسوم کا قرض پرکبھی آکنه و اجر ہے دوسری قوموں میں جلدی کرن گنہ نہیں دوسری قوموں کی رسوم مخالفہ کا ستم ا ا ا ا م م ج میں ای وی در فینال لینا کو رسول امینی اله ایام حج بی بی سودہ رضی خداصلی اسلام میں جاری کرنا گناہ ہے۔ما سیلمہ کا اپنے سے پہلے منی سے کہ معظمہ کیطرت کے جید نیا کس کتاب میں مکھی ہو ج کنار - قرآن بشه اون کا فارسی انگریزی میں لکھنا دو طرح سے سنا : بی بی اور ان کو نیس که با موم اور جان صدیقہ منی لاله ہے ایک تو یہ گر مصرف نقوش فارسی اور انگریزی میں ہوں مگر الفاظ مربی ہی جنت کوئن کے بہالی مبدار من موم کے ساتھہ نیم پسینے میں تعارض ہو یانہ میں نہیں ملاد کے کمال کو فارسی میں اس طرع الحمد اور امنیری رومن میں مستی سے کہ اگر مسافت سفر نہیں لکھتا ہو اور کہ سے تقسیم ساخت سفر رکھتا ہے Alhamdou ) کہا ہے۔اس صورت میں توں ونور ا ہل روم اور ان امام کے ساتھ انہیں کوئی شہر سال کی نہیں رآن ہی ہے کیونکہ نفوس کا اعتبار نہیں بلکہ الفاظ کا ہے نقوش اصلی عربی اور اگریسی اور یکہ کے درمیان مسافت سفر ہے تو سورہ مذ کو بلا مربہ آپ کیوں میں کبھی نہیں ہے کیو نکہ زیادہ نزول قرآن کا رسم الخط اس زمانہ سے بالکل بھیج دیا یا اگر منی دیکھ کے درمیان مسافت سفر و نیکی مستقیم مغائر تھا۔حجاب بالکل مشترک ہے۔اور اگر فارسی اگریزی سے مراد یہ لکھنا کہ عورت کے سفر میں محرم کا ہونا شرط ہے کیونکہ صحیح ہوگا ؟ ہے تو وہ قرآن شریف نہیں بلکہ ترجمہ ہے کیونکہ قرآن شریف کو قرآنا عرتا ج نمبر 19 : صحیح بخاری باب من قدم ضعفتہ المہ میں ہے۔حدیث شریف میں ہو احبو العرب لثلاث انا عربی و القرآن عرب ج نمبر: - سافت سفر میں اختلاف ہے جن علماء کے نزدیک تین و نسان اهل الجنت عربی۔پس میں ترجمہ کو قرآن مجید نہیں کہینگے بلکہ چار کوس کی ساخت کبھی ضر ہے اُن کے نزدیک تو دونوں نظام کو معظم سر سفر ہیں اور جن کے نزدیک نہیں پہنتیں میل ہے اُن کے نزدیک نہیں مگر گھنڈی دھٹر کی طرف رو با وی تودہ جانہ ہے یا کہنا جائز ؟ ترجمہ قرآن مجید کہینگے س منتشر : جو بکری یا بکرا یا دنبہ حلال کیا جائے۔اور اس کی حضرت سودہ کو اس لئو اجازت دی تھی کہ اس کے ساتھہ چند ایک پہر گھرانی کے لوگ ساتھی بھی تھے۔اور وہ خو بھی بہت بڑ میں تھیں ایسی صورت میں تشدد س تمت قربانی دینا ہر ایک سلمان کو شفت ہو یا حکم ہے یا کہ نہیں جوجوانی اور تنہائی کی صورت میں ہے کیونکہ فتنہ کا احتمال بہت دور ہو صرف، واستند گر چاہو اور نیز قربانی سنت ہے یا حکم ہے ؟ ممکن ہے کہ سود کا کوئی محرم بھی ساتھ ہو۔گو او سکا ذکر نہیں ایسے ذرائو چوہ ج من مارا۔کوئی ہرج نہیں۔اگر میں جان کٹ جاری واقعات کی بناء پر قانون کلیہ میں فعل نہیں آتا۔ج نمبر ۱:۔قربانی کے متعلق اختلاف ہے منت تو بے نزدیک تھی اور سر کے پہرے میں فتوی ملا میں علی ہائی کریں ہونا چاہیے خفیہ کے نزدیک انداری شہر ہے مالی احکام شرعیہ پر ورکر نے بھی جیلی ام که به صورت پر خوار ده خولہ ہو یا غیہ خولہ یا واجب کے حدیث شریف میں I ایسا ہی آیا ہے۔