آخری اتمام حُجّت — Page 35
یرحسین صاحب مرحوم دہلوی الگ ڈاؤدی شفاختہ میر کہائی ڈوانی نہ تسلیم لاہور) مر الواقعه الراجي رحمه الله الود ود عبدالله از اول تنمية لم اہل حدیث امرسته ۲۲ اپریل شام جاتا ہے۔چنانچہ فاتحہ سے مارگزیدہ کا دم اور بسم الله رنی کی غیره کار تب دیا کہ تصنیف قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی است مذکور است که سجده بر قبور رابیان میں ماثور ہیں اور دم کرنے کے کئی طریق میں پا کر بین چریکی رکن یا با تو اولیاء طواف نمودن درها از این خواستن وندر با ایرانیان کردن حرام است بلکه میں پھونک کرنا تھوکا بدن کو منایا پانی کا م کرکے پلانا یا بدن کو گا اب چیز یا ازاں بلفر رساند و نیز قضای حاجت از غیرخدانخواستن ما را الک نفع حضرت رض الموت میں تھے تو عائشہ صدیقہ آپ کو دم کرتی اوردم کی میگه مضر خود اعتقاد کردن شرک ملی است العیاز باشد ؟ پر زیادتی برکت کو آپکا مبارک تھے پھر ادیتی تھیں اکثر دم کرنے میں نفت کا اور بعض لوگ گونیت یہی ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں تقر بمحض اللہ ہی کا لفظ آیا سے جو خفیف سے لعاب کے ہمراہ پھونکنے کو کہتے ہیں۔چنانچو نلفت منظور ہے صرف اس نذر کا ثواب انو لفٹ منظور ہے صرف اس نہر کا ثواب ہم ان بزرگوں کے نامہ نگار میں ایس کرنا میں نفع نفت - نقل - برق درجہ بد بو زیادتی لعاب پر دال لکھی ہیں۔بظاہر شرک تو نہیں لیکن انکا اس مشرکانہ روش پر اپنا حال میں کبھی گانا - درجہ بدرجه پر (۳۵) بعضوں نے کچھہ اس کی اور بھی تاویل کی ہے لیکن ظاہر ہی کالا ضرور محسوس کراتا ہے۔اور شہ طاہر خاص تاریخوں کا عہد اور فلاں بزرگ ہے کہ نیک خوابین نبوت کا ایک چھیالیسواں حصہ ہیں۔بخاری کی موضوع کے لئے فلاں چیز کا تعین رشته پرستان کی گیارہ میں ہی ہو۔بولی کی رانی روائت میں ہے کہ اب نبوت میں سے صرف عشرات رہ گئے لوگوں نے کہا وغیرہ وغیرہ۔یہ کیا ضرور ہے چونکہ اس صورت میں کبھی وہی شر کی ڈانچہ برابر مبشرات کیا ؟ فرمایا نیک خوابین ایک لعذر وائت میں ہے کہ ماکان من کھڑا رہتا ہے۔اس پہلو بھی جب کم من تشبه بقوم فهو منهم اشتباه النبوة فلا يكذب وجو ثبوت موجودہ جھوٹ نہیں ہوتا) اس پر نام المعروبن سے خالی نہیں۔اس سے بھی مسلمانوں کو پر سیر لازم ہے اور ہم صورت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ خواب ہی شیطانی اور بشارت رحمانی تین قسم کی یہ تجمل طرق مروجہ معات پر داخل ہیں خیر القرون دائمہ دین سے انکا کوئی ہوتی ہیں۔پس مومن کی رحمانی خواب جو نبوت کا ایک حصہ ہر ضرور بھی ہوئی ثبوت نہیں ہے افسوس ہے کہ ہماری کئی ایک سادہ لوح عالمہ ہائی بھی جہلا ہے۔لیکن ایمان کی سچائی شر ہے۔کے دام تندر ہے میں آجاتے اور ان مشبہات کی مشاعت کا فتوی دیا تو (۳۹) حضرت پانی سے اتنجا کرنے کے بعد ہاتھ زمین پر لیتو تھے ہیں اور عوام کو اسی بیٹری میری چینی کی عام بات لاتی ہیں حالانکہ اگر اس سے کہ یہ اس منے کی تائید کسکتی ہے اور تو معلوم نہیں۔حق الامر کی تفتیش سے کام لیں تو یہی ایسانہ کریں مار کہنی اپنی تقری علی (۳۷) نقطہ کے سال بھر شہرت دینی کا حکم آیا ہے کہ الہت ہو تو ما اهل بہ لغیر اللہ میں فرماتی ہیں: نور ولا تقرب امریت پوشیده و پہلے بھی صرف کر سکتے ہیں چنانچہ علی نے ایک نیا پایا و در حواله او این گرفتاران این را میان می خواهند که مصدره الان بودید انشوده را در این و ناظریہ سینے کہا یا۔بعد میں آپ عورت اسکی جو یاں ہوئی حضرت نے فرمایا کہ آثارات و علامات باید کرد: اور لکھتے ہیں کہ : علی دینار دید سے : + یه دانستن این امر حاضران این کار را را زیاده تر تیر است - خاص لعلا نیست بلکه + (۳۸) مکان احاطہ مسجد کی اجرت صرف سجد ہوسکتی ہو کیا ماند؟؟ حال علماء وحال میشین که موانه میکنند یہاں مشکل سے ماند ها شنیده (۳۹) نورالله پران پیر ہوں یا لی یا بولی یا بخاری کیا اور کوئی نام کے بعد ا ندیده و این علامات و آثارات و چیزی که آن تقرب میروند خلف الی کسی کی منت ماننا یا کسی سے امداد چاہنا صاف مشرک بنادیتا ہو کیونکر نذر و مستبدل باعتبار زمان و بلدان میشود عاقل را باشد که تامل و خورد کرده تفتیش ایک عبادت ہے۔اور عبادت و استعانت دونوں اللہ ہی سے مخصوص ہیں نمائد اگر محافظت ایمان منظور است تفتیش کرده پر پنیر نماینده چنانم اياك نعبد وايارة تعین کا یہی مفہوم ہے علامہ محمد معین اپنے تیز تفصیل ان علامات میں تمیں لکہتے ہیں :- رسالہ کا اہل لغیراللہ میں کہتے ہیں کہ اس میدانند برائی غیر خدا حرام است و علیه العقد الا جماع بلکه کفر است کها سعاده جانها تلف کرده خوشدل میشوند وگا ہے این سم عمل برائی پر وہ پیر داشت و خود جميع الفقهاء من أفعال الكفرودة والتحدي لاندر غیرالله در سال اللہ نے نمائند با وجودیکه مراد ار ت برسانیدن نواب ایشان ده دهد و سران این خانه یه شیخ سد و مدیران و زین خان کدام حق برمین نادانان دارند که برای ایشان ۳۵ الفرض تدرغیر اللہ کا مال تو با انا تفاق حرام ہے دونم برشب برات میں حلوا باوکی تیا ر ہو یہ صرا مستقیم میں فرما تو ہیں۔اتیا دہ ھونے