آخری اتمام حُجّت — Page 33
اور اویل نام اہل حدیث امرتسر کرتے اسکے علاوہ اک کو مختلف مقامات میں جلی ہو رہی ہیں جن میں آواز بلند کی ہامیں مبتلا کیا جا ئے تاکہ ان کو بھی درمانیت معلوم ہو۔وہ ہمیں آج کہا جاتا ہے کہ گورنمنٹ ظالم ہے۔اسکی ذکریاں چھوڑ دو۔پھر اس شہر کا صدق معلوم ہوتا ہے جو آج سے کئی صدیاں بہتر کیا گیا ہوتے خود بخود ملک مو نکل جائینگے وغیر چنانچہ ہوا۔اپریل کو مرتے میں کبھی ہندسوں اور بها زور بندی مکمن بر جوان به که به یک نسلط مو نماند جہاں کہوں نے ملکر بلہ کیا۔میں میں اس قسم کے الفاظ نڈر ہوکر کہے گئی یہ کہ ہوا سو ہو اب ہم خاموشی سے اس شورش کے نتیجہ کے منتظر ہیں اسی قسم کے واقعات آئے دن منی میں آتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ جو بنگال سے اٹھکر تمام علاف ہندی پینگئی ہے اور گورنٹ کی خامات گورنمنٹ ایسے واقعات شورش کے سنتی ہے اور بالکل خاموش کیوں ہے پالیسی کے مہروں کی خدمت میں عرض کر تو ہیں کہ اپنی وفادار رجب مایا اس کا جواب شائد یہ ہو کہ گورنمنٹ جانتی ہے کہ (مسلمانوں کی ٹیلنگ کا خیال لکھا کریں اور یہ بات دل سیر سکالر ہیں کہ جواب جاہلان باشد خموشی اونکی گہری جاہلوں سے جو مسلمانوں کو کمزور کرنے کے متعال میرے ہی ہیں۔خیر اس سوال کا جواب تو گورنمنٹ جانے یا اس کے مدیر۔لیکن ایک مسلمان خال ہیں۔اس لیو ہم بادب عرض کرتے ہیں کہ۔سوال اور ہے جو خاص اُن لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔جو ہر آریا امر عادت کو کسی نہ کسی و مانی جیسے مسبب جانتی ہیں وہ سوال یہ ہے کیا وجہ ہے کہ چند ہی روز کا ذکر ہے کہ گورنمنٹ کی تعریفوں کے گیت گاؤ ہم خاک نشینوں کا ستانا نہیں اچھا ملائیں گے افلاک جو فریاد کرینگے جاتے تھے اور یہی ہندو کمیونٹی ان گیت گانوں میں نسٹ غیر ہوتی تھی اہلی ریت کانفرنس کی بابت ایک نیا (جو اپنا نام اس کا جواب غالبا ہی ایک ہو سکتا ہے جو حضرت سعیدی مرحوم نے کئی صدیوں سے پیشتر دی رکھا ہے کہ نہ ترس از او مظلومان که هنگام دره گردن اجابت از در حق با استقبال می آمد کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہیں، لکہتے ہیں کہ کانفرنس کو چاہیے کہ اہلحدیث کسے نہ ہب کی ایک جامع مانع مکتاب مدال مثل ہو امیہ کے لکہا کہ قوم کے ہاتھ میں دہی - جانا گزارش ہے کہ یہ اور اس جیسے اور بھی کئی کام کا نفرنس کرے گی جو کوئی اس اجمال کی تفصیل چاہے تو ذرہ مصر اور بین دیر کو واقعات انشاءاللہ۔مگر جب اسکو قوم کی طرف سے تقویت پہنچیگی سر دست تو کو معلوم کرے کہ انگریزیوں نے ان مقامات پر مسلمانوں کے حق میں کیا گیا اسکی وہی مثال ہے جو سلمانوں کی اجیل میں تھی کمثل زرع اخراج کانٹے ہوئے ہیں۔اور آئندہ کو بولنے کی کوشش ہو رہی ہے۔اس شطائر جب اسکو قوت حاصل پوکر فارزة فاستغلط فاستوى على کار بھائی سے مسلمانوں کے دلوں کو جو صدمہ پہنچتا رہا اوسکا اندازہ وہی ہے موقہ کا رتبہ حاصل ہوگا تب کہیں جا کر یہ پیج تعب النزاع بھی حاصل ہیں۔جنہر وہ صدمات آئی ہیں یا آتے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ ہے ہو جائے سے گا۔انشاء الله اہل فقہ نے اپنے معمولی طریق سے کئی ایک فعہ لکہا اتنا کہ امجد میث میں جوائڈ ٹیوریل بدائت الزوجین دمیاں بیوی کے حقوق کا بیان قیم د منیجر اہل حدیث امرسته شیشہ ہی کی طرح اسے ساقی ، چیٹ وقت کہ بھرے بیٹھی ہیں گوشمان این صدمات کو جتنا گورنمنٹ کو پاس او سے دباتے رہو اور فالتبا ان سات انگ اور تو ہند کا جو ا ا ا آیندہ کو بھی رہاتے رہینگے مگر اس دربار میں ہر کوئی دانہ ضائع نہیں جاتا جو ہا کہ نفس کے اعمال کے بدلے اپنی تارہ ہو اگرم گر ینٹ اپنے فوائد مضامین چھنتے ہیں۔یہ منہ بند کیہ کے اڈیٹر کے تکبر ہوتی ہیں جو لگی کے لئے فارن آفس میں کیسی شلمانوں کی توقیت کا خیال نہیں کرتی لیکن احمد میں کوئی عیب میں کہا ایک بہائی دوستے کے کام میں مدرک و سنگر قادر مطلق کی خیریت ہے تو ایک نہ ایک روز ان کانٹوں کا پھل پیدا آن ا ستا پر چونکہ یہ دعوی محض جھوٹ اور صرف کذب ہا: اس لئی الحد ایسے مورخ اسی قادر مطلق کی غیرت نے بہ شکل پیدا کردی ہے کہ اگنیوں کو بھی دراگر مارچ میں محفز اب پیر محلہ ہند سے اسکی بابت سوال کیا گیا کہ اہل فقہ کی