آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 18 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 18

کی عادت میں داخل ہے کہ جس شخص کو اس کی جناب میں کوئی تعلق عبودیت ہے تو اس زمانہ میں جب قمر اور غضب المنی زمین پر نازل ہوتا ہے اور ایک عام قتل کا حکم نافذ ہوتا ہے تب ملانگ کو جناب حضرت عزت جلشانہ سے فہمائش کی جاتی ہے کہ اس گھر کے محافظ رہیں نہیں یہی بھید ہے کہ سبب عام طاعون دنیا میں نازل کی گئی تو اسی ابتدائی زمانہ دستام میں جب اس ملک میں طاعون شروع ہوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے الہام ہوا کہ اِنِّی أَحَافِظُ كُلَّ مَن فِي الدار يعني ہر ایک شخص جو اس گھر کی چار دیواری کے اندر ہے میں اس کو طاعون سے بچا ؤنگا چنانچہ قریباً گیارہ برس ہوئے جب یہ الہام ہوا تھا اور اس مدت میں لاکھوں انسان اس دنیا سے نکار طاعون ہو گہ گزر گئے ، لیکن ہمارے اس گھر میں اگر ایک کتا بھی داخل ہوا تو وہ بھی طاعون سے محفوظ رہا یہ کس قدر عظیم الشان معجزہ ہے، لیکن ان کے لیے جو آنکھ بند نہیں کرتے اب بھی اگر کسی کو برگمان ہے کہ یہ انسان کا افتراء ہے یا یہ خدا کا کلام نہیں تو اسے چاہیئے کہ ایسا ہی افتراء وہ بھی شائع کرے یا قسم کھا کہ یہ شائع کرے کہ یہ خدا کا کلام نہیں پھر میں یقین رکھتا ہوں کہ خدائے قدیر اس کو اس بے باکی کا جواب دیگا اگر تم مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک سیر کر و تو تمام دنیا میں تمہیں کوئی ایسا علم نہیں ملیگا کہ خدا نے اس کو طاعون کی نسبت یہ تسلی دی ہو کہ وہ اس کے گھر میں نہیں آئے گی چاہیئے کہ ہمارے مخالف مسلمان اور اگر یہ اور عیسائی ضرور اس بات کا جواب دیں والسلام علیٰ من التبع الهدى مزرا غلام احمد عنا الله عنه مسیح موعود بلفظه الحکم ۳۰ ر ا پریل شنشائه مہ کالم علا سطر علیدا انمبر۱۵ بلفظہ اخبار بدر اور مٹی شاه جلد نمبر ۱ صفحه با کالم علا سطرها یہ مضمون پڑھکر نہ مولوی ثناء اللہ ٹس سے مس ہوئے اور نہ کوئی اور شخص تو بہ جوان عشائر اعلان بار دوم کو آپ نے اعلان بار دوم کے عنوان کے تحت یہی دعوت پیش کرتے ہوئے بالخصوص مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور مولوی عبدالجبار اور عبدالواحد اور عبدالحق غزنوی ثم امرتسری اور جعفر زٹلی لاہوری اور ڈاکٹر عبدالحلیم خان اور ان کے ہمرنگ لوگوں کو مخاطب کیا۔اعلان بار دوم کا مضمون یہ ہے۔اعلان باردوم بد ربه جون کنشه M رمن أَظْلَمُ مِمَّن افسر بن عَلَى اللهِ كَذِباً از كرب بايد ) افسوس کہ اس ملک کے اکثر لوگ جو مولوی کہلاتے یا مہم ہونے کا دم مارتے ہیں جب