آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 17 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 17

کوئی آج اگر ہے تو کل کا اعتبار نہیں اور دیکھنے میں بھی ایسا ہی آیا ہے کہ وہ ہے تو یہ نہیں اور یہ ہے مث کالم تو وہ نہیں ایسے وقت میں طاعون ہیضہ وغیرہ کی موت کی دعا محض حسن بن صباح کی دعا کی طرح ہے نا اہلحدیث اور پریا نام به عبارت مولوی ثناء اللہ صاحب کے خدا تعالیٰ پر توکل نہ رکھنے اور طاعون سے ہلاکت کی دعا سن کہ گھبرا جانے کا نتیجہ ہے چنانچہ اس مقابلہ سے جان چھڑانے کے لیے انہوں نے اپنے جواب کے آخر میں صاف لفظوں میں لکھد یا کہ: - مختصر یہ کہ میں تمہاری درخواست کے مطابق حلف اٹھانے کو تیار ہوں اگر تم اس کے نتیجے سے مجھے اطلاع دو اور یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی رانا اس کو منظور کر سکتا ہے۔14۔6 ر اخبار اہل حدیث ۲۲ اپریل سه صد کالم اول ) اس طرح مولوی ثناء اللہ صاحب نے بد دعا والے مقابلہ سے انکار کر کے اور اس کی منظوری آخری اتمام حجت از دیگر جان تو چترالی اور اشتہار کا مینمون فیصلہ کن بنا دیا اور صرف حلف اٹھانے پر آمادگی اور نتیجہ بتایا جانے کی پہلے کی طرح رٹ لگائی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پھر انکا پیچھا کیا۔چونکہ وہ طاعون سے ڈر کر خدا پر عدم توکل کی وجہ سے اس مقابلہ سے بھاگتے تھے۔اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام اپنے طاعون سے بچایا جانے کے متعلق اپنا العام إني أحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدّاری پیش کر کے تمام مخالف مسلمانوں۔آریوں اور عیسائیوں کو مولوی ثناء اللہ صاحب کے جواب کے چار دن بعد ہی اخبار الحکم ۳۰ اپریل شنشہ میں ایک دعوت دے دی کہ۔اگر کسی کو یہ گمان ہے کہ یہ انسان کا افترا ہے یا یہ خدا کا کلام نہیں تو اسے چاہیئے کہ ایسا ہی افترا وہ بھی شائع کرے یا قسم کھا کر یہ شائع کرے کہ یہ خدا کا کلام نہیں تو پھر میں یقین رکھتا ہوں کہ خدائے قدیر اس کو اس بے باکی کا جواب دیا " ذیل میں اس دعوت کی پوری عبارت الحکم ۳۰ را پریل شاہ صث سے نقل کی جاتی ہے۔او ناظرین کی توجہ کے لائق اور مخالفوں سےایک استفسار "دنیا کے ملوک اور سلاطین میں یہ رسم ہے کہ جب ان کا کوئی غضب کسی شہر پر نازل ہوتا ہے اور اس شہر کے باشندوں کے قتل کے لیے عام حکم دیا جاتا ہے تو اس صورت میں اگر کس شخص کو اس سلطنت سے خاص تعلقات ہوتے ہیں تو اس شخص اور اس کے خیال واطفال کی نسبت فرمان شاہی صادر ہو جاتا ہے کہ اس شخص کے مال اور عزت اور جہان پر کوئی شاہی سپاہی عملہ نہ کرے ایسا ہی حضرت عزت جلشانہ