آخری اتمام حُجّت — Page 16
14 دیکھئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس الهام أجِيبُ دَعْوَةَ الراع کا ترجمہ خود یہ کیا ہے۔میں دعا کرنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔鳋 لہذا جمعیت مذکورہ اہل حدیث کا ترجمہ" میں نے دعا قبول کرلی غلط ترجمہ ہے جو یہ دھو کا اپنے کے لیے کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آخری فیصلہ والی دعا کی قبولیت کا الہام دن بعد ہو گیا تھا ، حالا نکہ اجیب کا لفظ فعل مضارع ہے مگر دھوکا دینے کے لیے جمعیت مذکورہ نے اس کا ترجمہ بصیغہ ماضی کر دیا ہے۔چونکہ اس الہام کا تعلق بھی مولوی ثناء اللہ صاحب سے متعلقہ ان تحریروں سے تھا جو ما را پریل شاہ سے پہلے مباہلہ کے سلسلہ میں لکھی جا چکی تھیں لہذا اس سلسلہ میں اس الہام کا مفہوم ہوا کہ خدا مباہلہ کرنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہے فریقین کی طرف سے بد دعا یا لعنۃ اللہ علی الکاذبین کی دعا کرنے سے واقع ہوتا ہے لہذا یہ الہام یہ سلسلہ ماہ یہ بتاتا ہے کہ فریقین کی طرف سے مباہلہ وقوع میں آجانے پر دعا خدا کی طرف سے قبول کی جاتی ہے۔جب مولوی ثناء اللہ صاحب مباہلہ کے لیے آمادہ نہ ہوئے نہ ہمارا پریل شاہ سے پہلے اور نہ اس تاریخ کے بعد اس لیے موادی ثناء اللہ صاحب کے اشتہار مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ کی منظوری نہ دینے کی وجہ سے یہ اشتہار کالعدم ہوگیا اور بالکل موثر نہ رہا کیونکہ یہ الہام مولوی ثناء اللہ صاحب کے خلاف اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے حق میں حجت اسی وقت ہو سکتا تھا کہ مولوی صاحب مباہلہ منظور کر لیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی اس دعا کو کیطر و قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس اشتہار میں آپ نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو منی طب کر کے لکھا تھا کہ :- سنت اللہ کے موافق آپ کذبین کی سزا سے نہیں بیچیں گے اشتہار مذکور مندرجہ اہل حدیث و راپر یل نگاه) اور سنت اللہ کی ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جھوٹا پیچے کی زندگی میں ہلاک ہوتا ہے ، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا یہ عقیدہ اخبار الحکم، ار اکتوبر شاہ سے لیکر پہلے اس مضمون میں درج کیا جا چکا ہے چونکہ اشتہار مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو مخاطب کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سنت اللہ کے ذکر کے بعد یہ لکھا تھا:۔پس اگر وہ سنرا جو انسانی ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے آتی ہے۔طاعون ہمینہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔اشتهار مذکوره مندرجہ اہل حدیث ۳۶ ر اپریل شاه کار) ر ایسے مولوی ثناء اللہ صاحب طاعون کے لفظ سے گھبرا گئے کیونکہ ان دنوں طاعون پڑی ہوئی تھی اور کھد یا کہ آپ نے بڑی چالا کی یہ کی ہے کہ دیکھا ان دنوں طاعون کی شدت ہے۔۔۔۔۔کہ انہیں صورت میں مردوں کا اٹھانا مشکل ہو رہا ہے۔ایسی صورت میں ہر شخص طاعون سے خائف ہے اور