آخری اتمام حُجّت — Page 14
ہے اور یہ تحریریں رسالہ اعجاز احمدی اور ۴ اپریل ان کے اخبار بد کی ہیں۔" ، اعجاز احمدی میں آپ نے لکھا تھا: اگر اس پروہ (مولوی ثناء اللہ، ناقل) مستند ہوئے کہ کا ذب صادق کے پہلے مر جائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے : (رساله اعجاز احمدی ۳ ) اور ہم اپریل شنا کے اخبار بدر میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق یہ لکھ گیا تھا کہ۔"بے شک وہ قسم کھا کر یہ بیان کریں کہ یہ شخص حضرت مرزا صاحب نافل ) اپنے دعوئی میں چھوٹا ہے اور بے شک یہ کہیں اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو لعنة اللہ علی الکاذبین اور اس کے علاوہ اس کو اختیار ہے کہ اپنا جھوٹا ہونے کی صورت میں ہلاکت وغیرہ کے لیے جو عذاب بچا ہیں مانگیں۔) اخبار بدر ۴ ر ا پریل شده ) م پی شاء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا کے الفاظ کا تعلق ان باتوں سے ہوا جو انہیں مباہلہ کے لیے مویش از میں یعنی ہمارا پریل سے پہلے لکھی جاتی سرمیں اس جگہ اسی مباہلہ کی بنیاد کا خدا کی طرف سے رکھا جانا مذکور ہے۔کیونکہ مباہلہ کی بنیاد العام الہی کی بنا پر رکھی گئی تھی۔وہ الہام آئینہ کمالات اسلام مطبوعہ ۱۹۹۳ کے ۲۲, ۲۹۵ پر درج ہے اور اسی بنا پر آپ نے کفر کا فتوی دینے والے علماء کو دعوت مباہلہ دی تھی۔الهام ۱۵ - اپریل 19۔العام أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ جو ۱۴ / اپریل سکنہ کو ہوا اسی سلسلہ مضامین کی ایک کڑی تھی مینو مباہلہ کے لیے مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق اس تاریخ سے پہلے لکھے گئے تھے۔ے والے اشتہار کے دس دن بعد نہیں ہوا تھا بلکہ ۱۸ اپریل شاہ کے الحکم میں را پر بیل کے الہامات کے سلسلہ میں دار اپریل عشاء کے تین دن بعد شائع ہوگیا تھا نہ کہ دس دن بعد اس کے ہمارا اپریل اپریل ایک ہونے کا زبر دست تاریخی شوت یہ بھی ہے کہ مکرم مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو وار اپرای شاد کو تازہ الہامات لکھے کہ دینے کی درخواست کی تو اس درخواست پر حضرت مسیح موعود علی السلام نے ۱۴ را پریل کر عہ کی تاریخ ڈال کر پہلا الهام أجِيبُ دَعْوَةَ الشراع درج فرمایا۔مکرم مفتی صاحب کی یہ درخواست اور اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تحریر کا عکس درج ذیل ہے۔