عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 90 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 90

عائلی مسائل اور ان کا حل کہتی ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے رہ رہے ہیں بلکہ ان کے بچے بھی یہی کہتے ہیں لیکن علیحدگی میں پوچھو تو دونوں کا یہی جواب ہوتا ہے کہ مجبوریوں کی وجہ سے رہ رہے ہیں اور آخر پر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ بہو ساس پر ظلم کر رہی ہوتی ہے اور بعض دفعہ ساس بہو پر ظلم کر رہی ہوتی ہے“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 10 نومبر 2006ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن مطبوعه الفضل انٹر نیشنل یکم دسمبر 2006ء) نیز حضورِ اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ” ایک لڑکی جب اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کر خاوند کے گھر آتی ہے تو اگر اس سے حسن سلوک نہ ہو تو اس کی اس گھر میں، سسرال کے گھر میں، اگر جوائنٹ فیملی ہے تو وہی حالت ہوتی ہے جو ایک قیدی کی ہو رہی ہوتی ہے اور قیدی بھی ایسا جسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔لڑکی نہ خود ماں باپ کو بتاتی ہے نہ ماں باپ پوچھتے ہیں کہ بچی کا گھر خراب نہ ہو۔تو اگر لڑکی اس طرح گھٹ گھٹ کر مر رہی ہو تو یہ ایک ظالمانہ فعل ہے“۔(جلسہ سالانہ یو کے خطاب از مستورات فرمودہ 31 / جولائی 2004ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 124 اپریل 2015ء) اسی طرح ایک اور موقع پر فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو محبتیں پھیلانے آئے تھے۔پس احمدی ہو کر ان محبتوں کو فروغ دیں اور اس کے لئے کوشش کریں نہ کہ نفرتیں پھیلائیں۔اکثر گھروں والے تو بڑی محبت سے رہتے ہیں لیکن جو نہیں رہ سکتے وہ جذباتی فیصلے نہ کریں بلکہ اگر توفیق ہے اور سہولتیں بھی ہیں، کوئی 06 90