عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 91

عائلی مسائل اور ان کا حل مجبوری نہیں ہے تو پھر بہتر یہی ہے کہ علیحدہ رہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا یہ بہت عمدہ نکتہ ہے کہ اگر ساتھ رہنا اتنا ہی ضروری ہے تو پھر قرآن کریم میں ماں باپ کے گھر کا علیحدہ ذکر کیوں ہے؟ ان کی خدمت کرنے کا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کا، ان کی کسی بات کو برا نہ منانے کا، ان کے سامنے اُف تک نہ کہنے کا حکم ہے، اس کی پابندی کرنی ضروری ہے۔بیوی کو خاوند کے رحمی رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہئے ، اس کی پابندی بھی ضروری ہے اور خاوند کو بیوی کے رحمی رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہئے ، اس کی پابندی بھی ضروری ہے۔یہ بھی نکاح کے وقت ہی بنیادی حکم ہے خطاب فرمودہ مورخہ 10 نومبر 2006ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن) 11 جولائی 2012ء کو دورہ کینیڈا کے دوران حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے رشتہ ناطہ کمیٹی کے ساتھ میٹنگ کے دوران فرمایا: وو ” یہاں کینیڈا، امریکہ اور مغربی ملکوں میں بعض لڑکے بعض نامناسب کاموں میں Involve ہو جاتے ہیں اور بعض نقائص ان میں پیدا ہو جاتے ہیں۔بعض دفعہ تربیت اور سمجھانے کے نتیجہ میں اصلاح ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ نہیں ہوتی۔اسی طرح بعض دفعہ بعض لڑکیوں میں بھی نقائص ہوتے ہیں۔بہر حال جب رشتہ ہو رہا ہو تو یہ باتیں سامنے آنی چاہئیں اور دونوں کو تقویٰ کے ساتھ بتانی چاہئیں تاکہ بعد میں جھگڑے نہ ہوں“۔91