عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 39
عائلی مسائل اور ان کا حل آئے کہ دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں“۔مزید فرمایا: ” جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ یہ سب پر دے اس وقت چاک ہوتے ہیں جب جوش اور غیظ و غضب میں انسان بڑھ جاتا ہے۔اس لئے اسے دبانے کی ضرورت ہے۔غصہ کو دبانا وہ عمل ہے جو خدا تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے اور اسے نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔پس ہر احمدی جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر کے یہ عہد باندھا ہے کہ میں اپنی حالت میں پاک تبدیلی پیدا کروں گا، اپنے گھر یلو تعلقات میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش کروں گا تو اُس کو اس عہد کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مجھے جب ایسے جھگڑوں کا پتہ لگتا ہے اور چھوٹی چھوٹی رنجشوں کے اظہار کر کے گھروں کے ٹوٹنے کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔تو ہمیشہ ایک بچی کا واقعہ یاد آ جاتا ہے جس نے ایک جوڑے کو بڑا اچھا سبق دیا تھا۔اُس کے سامنے ایک جوڑا لڑائی کرنے لگا یا بحث کرنے لگے یا غصہ میں اونچی بولنے لگے تو وہ بچی حیرت سے ان کو دیکھتی چلی جارہی تھی۔خیر ان کو احساس ہوا، انہوں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے اماں ابا کبھی نہیں لڑے؟ ان کو غصہ کبھی نہیں آتا؟ اس نے کہا ہاں ان کو غصہ تو آتا ہے لیکن جب امی کو غصہ آتا ہے تو ابا خاموش ہو جاتے ہیں اور جب میرے باپ کو غصہ آتا ہے تو میری ماں خاموش ہو جاتی 39